کاتالونیا،دو تہائی سے زائد خواتین نے زندگی میں کسی نہ کسی شکل کی جنسی زیادتی کا سامنا کیا،سروے
Screenshot
بارسلونا: کاتالونیا میں کیے گئے تازہ سروے کے مطابق دو تہائی سے زائد خواتین (67.3 فیصد) نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل کی جنسی زیادتی کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ پندرہ فیصد خواتین نے بتایا کہ یہ زیادتی گزشتہ ایک سال کے دوران ہوئی۔ سروے کے دوران صرف چھ فیصد متاثرہ خواتین نے اپنے خلاف ہونے والے حملوں کی رپورٹ درج کرائی۔
سروے میں آن لائن ہراسانی میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں ہر چار میں سے ایک خاتون نے کہا کہ انہیں 15 سال کی عمر کے بعد اس قسم کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔
کاتالونیا کی وزیر داخلہ، نوریا پارلون نے کہا کہ یہ اعدادوشمار مسئلے کی “ساختی اور مسلسل” نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اعلان کیا کہ مستقبل میں سروے میں مردوں کے تاثرات اور 15 سال سے کم عمر خواتین کے تجربات کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے سروے میں کام کرنے والی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض اعدادوشمار کا مجموعہ نہیں بلکہ خواتین کی شناخت اور انصاف کے لیے ایک اہم آلہ ہے۔
پارلون نے بتایا کہ 8,621 خواتین سے رینڈم انداز میں رابطہ کیا گیا، جن کی عمر 16 سال یا اس سے زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ مختلف خطوں، عمروں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی تقریباً 60 افراد پر مشتمل دس گروپ میٹنگز بھی منعقد کی گئیں تاکہ مختلف نقطہ نظر اور حقیقی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
سروے میں سامنے آیا کہ گزشتہ ایک سال میں جنسی زیادتی کا سامنا کرنے والی خواتین میں 80.4 فیصد نے دو یا زیادہ واقعات کا ذکر کیا، اور تقریباً 10 فیصد نے بتایا کہ یہ واقعات طویل عرصے تک جاری رہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر کی حد نوجوان خواتین 16 تا 24 سال ہے، جن میں 45.6 فیصد نے جنسی زیادتی کا تجربہ بتایا۔ عمر کے ساتھ اس کا اثر کم ہوتا گیا۔
آن لائن ہراسانی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جیسے نجی تصاویر یا ویڈیوز کا اشتراک یا آن لائن توہین آمیز کمنٹس۔ پارلون نے کہا کہ “یہ ایک پرانے مسئلے کا نیا روپ ہے” اور “صنفی تشدد ایک منفی توانائی ہے جو ختم نہیں ہوتی بلکہ بدل جاتی ہے۔”