اسپین نے تصدیق کی: اگر اسرائیل حصہ لے تو یوروویژن 2026 میں شریک نہیں ہوگا
Screenshot
بارسلونا، 27 نومبر 2025 (دوست مانیٹرنگ ڈیسک) اسپین کی سرکاری نشریاتی کمپنی RTVE نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل یوروویژن 2026 میں حصہ لیتا ہے تو اسپین مقابلے میں حصہ نہیں لے گا۔ یہ اعلان RTVE کے صدر جوزے پابلو لوپیز نے جمعرات کو سینٹ میں کمپنی کے پارلیمانی کنٹرول کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا۔
لوپیز نے کہا کہ اسپین کی پوزیشن وہی ہے جو مہینوں پہلے تھی، اور اسرائیل کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اس کی دو وجوہات بتائیں: پہلی، غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قتلِ عام، اور دوسری، اسرائیل کی مسلسل سیاسی مداخلت اور یوروویژن قوانین کی خلاف ورزی، جس پر اسے گزشتہ دو سالوں میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ممالک اگر ایسی مداخلت کرتے تو انہیں معطل یا سزا دی جاتی۔
اس پیش رفت کے پس منظر میں، یوروویژن کے منتظمین نے حال ہی میں ووٹنگ کے نظام میں تبدیلیاں کی ہیں، جس میں ہر ناظر کے زیادہ سے زیادہ ووٹ کی تعداد 20 سے کم کر کے 10 کی گئی ہے اور سیمی فائنلز میں جج کے ووٹ کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے، نیز ووٹ میں دھوکہ دہی یا ہم آہنگی کو روکنے کے لیے تکنیکی حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
تاہم لوپیز نے کہا کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
اسپین کی یہ پوزیشن پہلے ہی ستمبر میں RTVE کے بورڈ نے منظور کر لی تھی اور یہ آئرلینڈ، سلووینیا، آئس لینڈ اور نیدرلینڈز کی حمایت میں ہے، لیکن چونکہ اسپین “Big Five” کا حصہ ہے، اس کا اثر زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ اسپین نے 1961 سے یوروویژن میں حصہ لیا ہے اور ہر سال اس کی بڑی فائنل میں شمولیت رہی ہے۔ 2025 میں مقابلے کی نشریات نے 50 فیصد سے زیادہ ناظرین کا حصہ حاصل کیا اور تقریباً 5.88 ملین لوگوں نے اسے دیکھا۔
اگر اسپین 2026 میں حصہ نہ لے، تو RTVE یوروپی براڈکاسٹر یونین (UER) کو شرکت کا فیس ادا نہیں کرے گا اور اسے مقابلے کے نشریاتی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔