Screenshot
میڈرڈ، 20 جولائی 2026/ Observatorio Español del Racismo y la Xenofobia (OBERAXE) نے جون کے دوران انٹرنیٹ پر نفرت انگیز اور امتیازی مواد کے مجموعی طور پر 40,861 پیغامات کی نشاندہی کی، جو مئی کے مقابلے میں 31.8 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں اسپین کی قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی لامین یمال کے خلاف نسلی اور اسلاموفوبک مواد کی “نمایاں مقدار” بھی سامنے آئی ہے۔
پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، شہری عدم تحفظ سے متعلق پیغامات، جو اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر یا غلط تھے، 69 فیصد نفرت انگیز مواد کا سبب بنے، جبکہ کھیلوں کا شعبہ 16 فیصد کے ساتھ دوسرا بڑا محرک رہا۔
خصوصی طور پر فٹبال ورلڈ کپ کے دوران، مبصر ادارے نے قومی ٹیموں، شائقین اور کھلاڑیوں سے متعلق نسلی اور اسلاموفوبک پیغامات میں واضح اضافہ دیکھا۔ رپورٹ میں خاص طور پر لامین یامال کے گرد ایسے مواد کی بڑی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ میں ان کے پہلے گول کے بعد سجدہ (مسلم انداز) کرنے کو بنیاد بنا کر ان کی شناخت اور اسپین کی نمائندگی پر سوال اٹھائے گئے، اور سوشل میڈیا پر توہین آمیز جملے استعمال کیے گئے۔
مزید برآں، عوامی پالیسیوں سے متعلق مواد کل کا 11 فیصد تھا، جو زیادہ تر امیگریشن اور انضمام کی پالیسیوں اور حکومت کے غیر معمولی ریگولرائزیشن پروگرام سے جڑا ہوا تھا۔ جنسی جرائم سے متعلق مواد 9 فیصد، دہشت گردی 3 فیصد اور کشتیوں کے ذریعے آمد سے متعلق موضوعات 2 فیصد رہے۔
61 فیصد مواد پلیٹ فارمز نے ہٹا دیا
رپورٹ کے مطابق، پلیٹ فارمز نے مجموعی طور پر 61 فیصد نفرت انگیز مواد ہٹا دیا، جو مئی کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہے۔ عام صارفین کی شکایات پر صرف 10 فیصد مواد ہٹایا گیا، جبکہ 5 فیصد پیغامات پہلے 24 گھنٹوں میں، 1 فیصد اگلے 48 گھنٹوں میں اور 4 فیصد ایک ہفتے کے اندر حذف کیے گئے۔
مختلف پلیٹ فارمز میں، TikTok نے سب سے زیادہ 98 فیصد مواد ہٹایا، X نے 93 فیصد، Facebook نے 62 فیصد، Instagram نے 32 فیصد جبکہ YouTube نے صرف 8 فیصد مواد حذف کیا۔
رپورٹ کے مطابق، شمالی افریقی نژاد افراد کے خلاف 88 فیصد نفرت انگیز مواد سامنے آیا، جبکہ مسلمانوں کے خلاف 11 فیصد اور افریقی نژاد افراد کے خلاف 7 فیصد مواد رپورٹ ہوا۔ اس کے علاوہ لاطینی امریکی اور یہودی کمیونٹی کے خلاف بھی پیغامات سامنے آئے۔
مواد کی نوعیت کے حوالے سے، 48 فیصد پیغامات ایسے تھے جو متاثرہ گروپس کو غیر انسانی یا شدید تضحیک کا نشانہ بناتے تھے، 32 فیصد نے انہیں خطرہ ظاہر کیا، جبکہ 10 فیصد میں ملک سے نکالنے کی بات کی گئی۔ مزید 6 فیصد پیغامات میں تشدد کی ترغیب، 3 فیصد میں ایسے افراد کی تعریف اور 1 فیصد میں متاثرہ گروپس کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش شامل تھی۔
تقریباً 89 فیصد نفرت انگیز پیغامات میں واضح طور پر گالی گلوچ، دھمکیاں یا توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، جبکہ 10 فیصد میں طنز و مزاح اور 32 فیصد میں تصاویر، ویڈیوز، میمز یا خفیہ زبان کا استعمال کیا گیا۔
