بادالونا کے B9 سے بے دخل ہونے والے 60 افراد کو متبادل رہائش کی پیشکش کی گئی، مگر انہیں پسند نہیں آئی،البیول کا مؤقف

Screenshot

Screenshot

بادالونا کے میئر زاویئر گارسیا البیول نے کہا ہے کہ B9 عمارت سے بے دخل کیے گئے تقریباً 50 سے 60 افراد کو مختلف اداروں کی جانب سے متبادل رہائش کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ انہیں پسند نہیں آئی۔

میئر نے یہ بات ٹیلی وژن پروگرام “En boca de todos” میں ان الزامات کے جواب میں کہی جو اس ہفتے بدھ کے روز کومنس (Comuns) کی جانب سے دائر کیے گئے۔ مذکورہ شکایت میں بغیر متبادل رہائش کے بے دخلی اور بعد ازاں میئر کے بیانات و اقدامات کو نفرت انگیز جرائم کے زمرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

البیول کے مطابق، شہر کی سماجی تنظیموں نے متاثرہ افراد کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کی پیشکش کی، جیسا کہ اپوزیشن کا مطالبہ تھا، مگر بے دخل افراد نے گلی میں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے بقول پیش کی گئی متبادل سہولت انہیں قابل قبول نہیں تھی۔

میئر نے کہا، “اس وقت تقریباً 50 یا 60 افراد ایک جگہ پر موجود ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ شہر کی سماجی تنظیموں نے انہیں متبادل فراہم کیا، مگر وہ وہاں جانا نہیں چاہتے کیونکہ کہتے ہیں کہ یہ متبادل انہیں پسند نہیں۔ یہی ان افراد کی حقیقت ہے۔”

البیول نے مزید بتایا کہ جنرالیتات اور بادالونا کے سماجی خدمات کے محکموں نے مشترکہ طور پر یہ طے کیا کہ عمارت میں رہنے والے 400 افراد میں سے 55 افراد کو کمزور یا ضرورت مند کے طور پر شناخت کیا گیا۔

میئر کے مطابق، ان تمام کمزور افراد کو امداد فراہم کر دی گئی ہے اور وہ اس وقت چھت تلے رہائش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی خدمات نے کارروائی کے دوران موقع پر ایک خیمہ بھی قائم کیا تاکہ ان افراد کی مدد کی جا سکے جن پر پہلے سے نظر رکھی جا رہی تھی، اور ساتھ ہی ان لوگوں سے بھی رابطہ کیا گیا جنہوں نے خود مدد کی درخواست دی۔

کرسمس کے دنوں میں بے دخلی کے اقدام پر تنقید کے جواب میں البیول نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق انہیں کارروائی مکمل کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی تھی، جس پر عمل کرنا لازم تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے