اسپین کی پہلی “بے اولاد نسل” بڑھاپے کے خوف سے دوچار

Screenshot

Screenshot

اسپین میں ایک ایسی نسل سامنے آ رہی ہے جس نے زندگی اولاد کے بغیر گزاری، اور اب بڑھاپے کے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کا سامنا کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 55 سے 64 سال کی عمر کے 20 فیصد بالغ افراد بے اولاد ہیں، جبکہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح اس سے آدھی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید بڑھے گا۔

مشترکہ رہائش، ذاتی بچت اور سماجی معاونت کے نیٹ ورکس کو ان افراد کے لیے ممکنہ حل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاستی پالیسیاں آبادیاتی چیلنجز کا مؤثر جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری جانب ماہرین اسے روایتی خاندانی ڈھانچے کے بحران سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ ایک تجزیے کے مطابق آج کے ملینیئلز جوڑے کی صورت میں زندگی گزارنے سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں، جسے بعض ماہرین نے “heterosexuality کا بحران” قرار دیا ہے۔

بارسلونا میں رہنے والے لورا اور خاوی، جو پچاس کی دہائی میں ہیں، ایک جوڑا ہیں اور انہوں نے کبھی اولاد نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی دلچسپیوں نے والدین بننے کی خواہش کو پیچھے دھکیل دیا۔ تاہم اب انہیں “بے اولاد بڑھاپے کے خوف” کا سامنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے لورا کے والدین کو، جو 80 سے زائد عمر کے ہیں، اچانک کمزور ہوتے دیکھا۔ بڑھتی ہوئی بیماریوں، اسپتال کے چکر اور روزمرہ مدد کی ضرورت نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر ان کے بچے نہ ہوتے تو وہ کیا کرتے۔

لورا کہتی ہیں کہ انسان کو لگتا ہے وہ ہمیشہ خودمختار رہے گا، لیکن عمر کے ساتھ حقیقت بدلتی ہے۔ اولاد ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ کوئی دیکھ بھال کرے گا، مگر کم از کم سہارا اور کسی کو فون کرنے کا امکان تو ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں 72 فیصد گھروں میں نہ بچے ہیں نہ نوجوان۔ 2012 کے مقابلے میں یہ شرح آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے ایک چوتھائی گھروں میں صرف ایک فرد رہتا ہے، جبکہ دوستوں یا غیر متعلقہ بالغ افراد کے ساتھ رہنے والے گھروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ صرف بالغ جوڑوں پر مشتمل گھرانے اب روایتی خاندانوں سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

Funcas کے ایک مطالعے کے مطابق یورپ بھر میں وہ گھرانے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو روایتی خاندانی تصور میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ اس تبدیلی کی وجوہات میں زیادہ آزادی، خاندانی دباؤ میں کمی اور زندگی کے متبادل اہداف شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بے اولاد افراد میں اکثریت ایسی ہے جو اولاد چاہتی تھی مگر مختلف وجوہات کی بنا پر نہیں ہو سکی۔ CIS کے مطابق 58 فیصد بے اولاد اسپینی اولاد کے خواہش مند تھے، جبکہ 36.7 فیصد نے شعوری طور پر اولاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی بڑی وجوہات میں روزگار کا عدم استحکام، رہائش کا بحران، کام اور گھریلو زندگی میں توازن کی کمی، اور مستحکم رشتے بنانے میں مشکلات شامل ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بے اولاد بزرگ افراد بڑھاپے میں زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ دیکھ بھال کا زیادہ تر بوجھ اب بھی خاندانوں پر ہی ہے اور سرکاری نظام ناکافی ہے۔ بعض ممالک، جیسے جرمنی، میں بے اولاد افراد سے نگہداشت کے نظام کے لیے زیادہ مالی حصہ لیا جاتا ہے، مگر اسپین میں یہ بحث ابھی شروع نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کے لیے سوچنا ناگزیر ہے۔ اس میں یہ سوالات شامل ہیں کہ بڑھاپے میں کیسے جیا جائے، دیکھ بھال کیسے ہو، اور جائیداد کس طرح منتقل کی جائے۔ بعض ماہرین وراثت کے قوانین میں نرمی کی تجویز دیتے ہیں تاکہ وہ افراد یا ادارے بھی فائدہ اٹھا سکیں جو عملی طور پر نگہداشت میں مدد دیتے ہیں، چاہے وہ خاندان کا حصہ نہ ہوں۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق انفرادی سطح پر حل یہ ہے کہ لوگ وقت سے پہلے مالی منصوبہ بندی کریں، ٹیکنالوجی سے جڑے رہیں، اور مختلف عمر کے لوگوں کے ساتھ معاون نیٹ ورکس بنائیں۔ کچھ افراد اجتماعی رہائش کے منصوبوں پر بھی غور کر رہے ہیں، جہاں اخراجات اور سہولیات مشترک ہوں۔

لورا اور خاوی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک بڑے گھر میں اکٹھے رہنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جہاں مشترکہ طور پر ڈرائیور، اسسٹنٹ اور باورچی رکھے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اولڈ ہوم کا تصور انہیں خوفزدہ کرتا ہے، جبکہ مل کر رہنا نسبتاً سستا اور باعزت حل ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول بے اولاد لوگ عام طور پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، مگر اب انہیں احساس ہو رہا ہے کہ بڑھاپے کے لیے بچت ناگزیر ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے