امیگریشن کے باعث کاتالونیا کو اکیسویں صدی میں یورپی یونین کی بلند ترین آبادیاتی شرحِ نمو حاصل
بارسلونا(دوست نیوز)کاتالونیا کی آبادی میں اکیسویں صدی کے پہلے پچیس برسوں کے دوران 17 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد آبادی 62 لاکھ سے بڑھ کر 80 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
نومولود بچوں کی شرح میں مسلسل کمی کے باوجود، نئی آنے والی آبادی کی بدولت کاتالونیا کی مجموعی آبادی میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں سے صرف چار ممالک ایسے ہیں جہاں آبادی میں کاتالونیا سے زیادہ شرح سے اضافہ ہوا۔
گزشتہ پچیس برسوں میں یورپی یونین کی مجموعی آبادی میں 20 ملین افراد کا اضافہ ہوا، جن میں سے ہر دس میں سے ایک فرد کاتالونیا میں مقیم ہے۔ اس آبادیاتی اضافے کی بنیادی وجہ امیگریشن ہے، کیونکہ اس وقت غیر ملکی شہری کاتالونیا کی کل آبادی کا تقریباً 25 فیصد ہیں۔
یہ نئی آنے والی آبادی زیادہ تر میٹروپولیٹن علاقوں اور ساحلی خطوں میں آباد ہوئی ہے، تاہم ان کی آمد کے باوجود دیہی علاقوں کے چھوٹے مائیکرو دیہات کو آبادی میں کمی کا سامنا ہے، جہاں صدی کے آغاز سے اب تک تقریباً 200 دیہات اپنی آبادی کھو چکے ہیں۔
امیگریشن کے باوجود آبادی کے بڑھاپے کے رجحان کو روکا نہیں جا سکا۔ گزشتہ پچیس برسوں میں اوسط عمر 40.6 سال سے بڑھ کر 43.7 سال ہو گئی ہے۔
کاتالونیا کے شماریاتی ادارے (Idescat) کی پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ دس برسوں میں بھی آبادی میں اضافہ جاری رہے گا اور توقع ہے کہ آبادی 85 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ قدرتی آبادیاتی اضافہ بدستور منفی رہے گا، یعنی اموات کی تعداد پیدائش سے زیادہ ہوگی، تاہم امیگریشن آنے والی دہائی میں آبادی میں اضافے کو یقینی بنائے گی۔
گزشتہ پچیس برسوں میں کاتالونیا کی آبادیاتی شرحِ نمو یورپی یونین کی اوسط شرح 4.9 فیصد سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ اس عرصے میں یورپی یونین کی مجموعی آبادی 430 ملین سے بڑھ کر 450 ملین ہو گئی۔
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں سے صرف چار ممالک ایسے ہیں جہاں کاتالونیا سے زیادہ آبادیاتی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں لکسمبرگ (55.3 فیصد)، مالٹا (47.2 فیصد)، قبرص (43.3 فیصد) اور آئرلینڈ شامل ہیں۔