2026 میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ماہانہ 500 یورو کی امداد،بچے کو کتنی عمر تک ملے گی؟
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)اسپین میں آبادیاتی اشاریے مسلسل تشویشناک صورتِ حال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ایک طرف شرحِ پیدائش مزید کم ہو رہی ہے، تو دوسری جانب متوقع عمر بڑھ کر ریکارڈ 84.01 سال تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں کمیونٹی آف میڈرڈ نے 2026 کے لیے بھی شرحِ پیدائش بڑھانے کی غرض سے ماہانہ 500 یورو کی امداد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ مالی سہولت ماؤں کو بچے کی پیدائش سے پہلے اور ابتدائی دو برسوں تک فراہم کی جائے گی، تاکہ اس حساس مرحلے میں گھریلو اخراجات کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ حکومتِ میڈرڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نوجوان خاندانوں کو معاشی استحکام دینا اور اس سوچ کو تقویت دینا ہے کہ صرف مالی خدشات کی وجہ سے مادریت کو مؤخر نہ کیا جائے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں فی خاتون اوسطاً بچوں کی تعداد 1.1 رہ گئی ہے، جو تاریخی کم ترین سطح ہے۔ اگرچہ میڈرڈ معاشی طور پر ایک متحرک خطہ ہے، لیکن وہ بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں۔ اسی پس منظر میں یہ امداد ایک عملی سہارا سمجھی جا رہی ہے۔
یہ امداد پیدائش یا گود لینے کی صورت میں دی جاتی ہے اور اس کی رقم 500 یورو ماہانہ ہے۔ دیگر وقتی یا یکمشت امداد کے برعکس، یہ سہولت صرف زچگی تک محدود نہیں بلکہ حمل کے 21ویں ہفتے سے شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے طبی معائنوں، گھر کی تیاری اور بچے کی بنیادی ضروریات جیسے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ حق بچے کے دو سال کی عمر مکمل ہونے تک برقرار رہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک بچے پر مجموعی طور پر 12 ہزار یورو تک کی مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اسی تسلسل کی وجہ سے اسے خاندانی بجٹ کے لیے ایک مستحکم سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سہولت کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ درخواست دینے والی ماں کا کمیونٹی آف میڈرڈ میں رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے اور اسے گزشتہ دس برسوں میں کم از کم پانچ سال کسی نہ کسی میونسپلٹی میں رہائش پذیر ہونا چاہیے۔ اس شرط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امداد طویل عرصے سے یہاں آباد خاندانوں تک پہنچے۔
ایک اہم شرط عمر سے متعلق ہے۔ یہ امداد ان ماؤں کے لیے مخصوص ہے جن کی عمر پیدائش یا گود لینے کے وقت 30 سال سے کم ہو۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کم عمری میں مادریت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے بچے کی اوسط عمر 32 سال کے قریب پہنچ چکی ہے۔
یہ اسکیم خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے، جو مہنگی رہائش، خوراک اور بنیادی سہولیات کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ امداد تنخواہ کا متبادل نہیں، مگر ایک مستقل ماہانہ رقم کے طور پر گھریلو منصوبہ بندی میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔
چونکہ یہ امداد ملازمت کے ساتھ بھی قابلِ حصول ہے، اس لیے بہت سی مائیں اپنا کام جاری رکھتے ہوئے اس رقم کو اضافی آمدن کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ اس سے کام اور گھریلو زندگی میں توازن پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
درخواست کا عمل کمیونٹی آف میڈرڈ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مکمل کیا جا سکتا ہے، جس سے وقت اور سفر دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ مطلوبہ دستاویزات میں رہائش کے سرٹیفکیٹ اور مالی معلومات شامل ہیں، جن کے ذریعے حکام شرائط کی تصدیق کرتے ہیں۔
عام طور پر چند ماہ میں درخواست کا فیصلہ ہو جاتا ہے، جس سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ امداد حمل کے آخری مرحلے یا بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ملنا شروع ہو جائے۔
اگرچہ صرف مالی امداد سے آبادیاتی بحران مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا، مگر گزشتہ برسوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے اقدامات نوجوان خاندانوں کی ایک بڑی پریشانی کو ضرور کم کرتے ہیں۔ مستقل مالی سہارا، ملازمت کے ساتھ مطابقت اور آسان انتظامی طریقہ کار میڈرڈ کو شرحِ پیدائش کے حوالے سے ایک نسبتاً مضبوط اور سنجیدہ ماڈل بناتے ہیں۔