کاتالان زبان یورپی یونین کی سرکاری زبان بن جائے گی، سوال صرف وقت کا ہے: ہسپانوی وزیر خارجہ
Screenshot
بارسلونا: اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل البارس نے کہا ہے کہ کاتالان زبان جلد یا بدیر یورپی یونین کے اداروں کی سرکاری زبان بن جائے گی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے بعض شکوک رکھنے والے ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
کاتالونیا ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں البارس کا کہنا تھا کہ وہ کوئی حتمی تاریخ تو نہیں دے سکتے، لیکن انہیں پورا یقین ہے کہ کاتالان، باسکی اور گالیشین زبانیں بالآخر یورپی یونین کی سرکاری زبانوں میں شامل ہو جائیں گی۔ انہوں نے اس عمل میں صبر اور رازداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں جنہوں نے کچھ تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کاتالان ایسی زبان ہے جسے ایک کروڑ کے قریب لوگ بولتے ہیں، جو یورپی یونین کی بعض موجودہ سرکاری زبانوں سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کو وہ ہر فورم پر پوری قوت سے پیش کر رہے ہیں۔
اگرچہ البارس نے براہِ راست کسی کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے اشارے اسپین کی قدامت پسند پاپولر پارٹی کی جانب تھے، جس پر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ یورپ میں ہم خیال حکومتوں پر دباؤ ڈال کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ البارس کے مطابق یہ رویہ خود اسپین کے شہریوں کے مفاد کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ کاتالان کو یورپی یونین کی سرکاری زبان بنانے کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہے، جس کے باعث یہ تجویز طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔
یہ مطالبہ دراصل کاتالان علیحدگی پسند جماعت جونتس اور سوشلسٹ پارٹی کے درمیان ہونے والے ایک سیاسی معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت سوشلسٹ رہنما فرانسینا آرمینگول کو اسپین کی کانگریس کا اسپیکر منتخب کیا گیا تھا۔