امریکہ نواز ہونا غلامی نہیں، برابری کی بنیاد پر تعلق ہونا چاہیے،سانچز
Screenshot
میڈرڈ: ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ پرو اٹلانٹسٹ ہونا اس بات کے مترادف نہیں کہ یورپی یونین امریکہ کی تابع دار بن جائے، بلکہ اس کا مطلب امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنا ہے۔
یہ بات انہوں نے پیر کے روز یونان کے وزیرِاعظم کیریاکوس میتسوتاکس کے ساتھ میڈرڈ میں ملاقات کے بعد کہی۔ سانچیز نے نیٹو کے دائرے میں کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچنے کی یونانی وزیرِاعظم کی تجویز کی حمایت کی، جس کا مقصد آرکٹک خطے کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ تشویش ہے جس کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر چکے ہیں۔
سانچیز نے یاد دلایا کہ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے کئی ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں آرکٹک کی سلامتی میں کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا بنیادی اصول ہے، اور یہ کسی ایک ملک، حتیٰ کہ امریکہ، کی سلامتی کے خلاف نہیں۔
ہسپانوی وزیرِاعظم نے اس موقع پر بتایا کہ اسپین نے یورپ کے مشرقی محاذ پر دو ہزار سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جو ان کے بقول روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے “نو سامراجی عزائم” سے پیدا ہونے والے اجتماعی سلامتی کے خطرے کا جواب ہیں۔ انہوں نے پیرس میں ہونے والی اس حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا جس میں رضاکار ممالک نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور ایک مستقل اور منصفانہ امن کے لیے سلامتی ضمانتوں پر غور کیا۔
اس موقع پر یونان کے وزیرِاعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے کہا کہ یورپی یونین کو متحد رہنا چاہیے اور امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، “میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسے حل موجود ہیں جو بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔”
سانچیز نے ایک بار پھر نیٹو کی افادیت اور مضبوطی پر زور دیا، تاہم واضح کیا کہ کسی قسم کی عدم مساوات قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا، “امریکہ نواز ہونا غلامی نہیں، بلکہ برابر کی بنیاد پر تعلق کا نام ہے۔”
آخر میں سانچیز نے مغربی ممالک کے درمیان مشترکہ اقدار کا ذکر کیا، جن میں جمہوریت، بین الاقوامی قانون، تنازعات کا پُرامن حل اور عالمی چیلنجز کا اجتماعی طور پر مقابلہ شامل ہے، خواہ وہ یوکرین پر روسی حملہ ہو یا بین الاقوامی قانون کی کوئی اور خلاف ورزی۔