غذائی سپلیمنٹس کا بڑھتا رجحان: 2019 کے بعد کاروبار میں 18 فیصد اضافہ، خبردار حد سے زیادہ استعمال نہ کریں، ڈاکٹرز
Screenshot
حالیہ برسوں میں غذائی سپلیمنٹس کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے لے کر فارمیسیوں اور سپر مارکیٹوں میں مخصوص شیلف تک، یہ مصنوعات روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
غذائی سپلیمنٹس بنانے اور تقسیم کرنے والی بڑی تنظیم افیپاڈی (Afepadi) کے مطابق، 2019 سے 2024 کے دوران اس شعبے کا کاروبار 18 فیصد بڑھا ہے۔ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ آبادی کے تقریباً دو تہائی افراد نے گزشتہ ایک سال میں کم از کم ایک بار سپلیمنٹ استعمال کیا۔

کاتالان سوسائٹی آف اینڈوکرائنولوجی اینڈ نیوٹریشن سے وابستہ ڈاکٹر کلارا خوآکین اس رجحان کو سوشل میڈیا سے جڑا ایک “بوم” قرار دیتی ہیں اور حد سے زیادہ استعمال کے خلاف خبردار کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام افراد کو، اگر وہ متوازن غذا لیتے ہوں، کسی اضافی سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔ خاص طور پر بحیرہ روم کے خطے میں، جہاں غذا میں اومیگا تھری، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزا وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، وہاں سپلیمنٹ غیر ضروری ہیں۔
ڈاکٹر خوآکین کے مطابق سپلیمنٹس کے فوائد پر سائنسی شواہد بھی محدود ہیں اور اکثر صورتوں میں لوگ ایسی چیزوں پر پیسہ خرچ کر دیتے ہیں جن کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوتا۔
دوسری جانب فارماسسٹ لورا سالود کا کہنا ہے کہ غذائی سپلیمنٹس مجموعی طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق نقصانات کے امکانات بہت کم ہیں اور وہ بھی تب، جب سپلیمنٹس کا غلط اور حد سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات میں حفاظت کا دائرہ کافی وسیع ہے۔
تاہم وہ “معجزاتی سپلیمنٹ” کے تصور کو مسترد کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی گولی یا سپلیمنٹ ایسے مسائل حل نہیں کر سکتا جن کے لیے ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک گولی ہر مسئلے کا حل ہے، حالانکہ اکثر مسائل کا تعلق طرزِ زندگی، خوراک یا ذہنی صحت سے ہوتا ہے، جنہیں صرف سپلیمنٹ سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
افیپاڈی کی صدر مونیکا گیسپرٹ بھی اس بات پر زور دیتی ہیں کہ غذائی سپلیمنٹس کو روایتی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان کے مطابق سپلیمنٹس مخصوص حالات میں معاون ہو سکتے ہیں، لیکن اگر کسی شخص کو تشخیص شدہ بیماری ہو تو اسے باقاعدہ دوا ہی پر انحصار کرنا چاہیے۔ البتہ ڈاکٹر، نرس یا فارماسسٹ بعض صورتوں میں علاج کے ساتھ سپلیمنٹ کو بطور اضافی مدد زیرِ غور لا سکتے ہیں۔
فارماسسٹوں کے مطابق سپلیمنٹس کے بڑھتے استعمال میں خواتین کا کردار نمایاں ہے، خاص طور پر 30 سال کی عمر کے بعد اور بالخصوص مینوپاز کے مرحلے میں۔
لورا سالود کے مطابق اس عمر میں خواتین میں جسمانی تبدیلیاں اچانک محسوس ہوتی ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ تبدیلیاں فطری ہیں، تو بہت سی خواتین سہارا حاصل کرنے کے لیے غذائی سپلیمنٹس کا رخ کرتی ہیں۔