کاتالونیا میں برطانوی شہریوں کی خون عطیہ مہم میں شمولیت

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز) کاتالونیا میں جاری سالانہ بلڈ ڈونیشن میراتھن کے دوران برطانوی نژاد شہریوں نے بھی خون عطیہ کرنا شروع کر دیا ہے، جو ایک طویل عرصے سے عائد پابندی کے خاتمے کے بعد ممکن ہوا ہے۔

Screenshot

کاتالونیا کی بلڈ ڈونیشن میراتھن 8 سے 17 جنوری تک جاری رہے گی، جس کا ہدف کرسمس کے دوران کم ہونے والے خون کے ذخائر کو بحال کرنے کے لیے 10 ہزار عطیات جمع کرنا ہے۔ اس سال پہلی مرتبہ سابق برطانوی رہائشی بھی اس مہم میں حصہ لے سکتے ہیں، جنہیں ماضی میں ایک طبی ضابطے کے تحت خون عطیہ کرنے سے روکا گیا تھا۔

Screenshot

یہ پابندی ایک نایاب اعصابی بیماری، ویریئنٹ کریوٹزفیلڈ جیکب ڈیزیز (vCJD)، سے متعلق خدشات کے باعث لگائی گئی تھی، جسے ماضی میں پاگل گائے کی بیماری سے جوڑا گیا تھا۔ ان قوانین کے تحت وہ افراد جو 1980 سے 1996 کے درمیان برطانیہ میں بارہ ماہ سے زائد عرصہ مقیم رہے ہوں، اسپین میں خون عطیہ کرنے کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔

Screenshot

تاہم 2025 کے وسط میں اسپین کی وزارتِ صحت نے سائنسی جائزوں کے بعد ان ضوابط میں ترمیم کی، جن میں اس خطرے کو نہایت کم قرار دیا گیا۔ اس کے بعد کاتالونیا کے بلڈ بینک، بینک دے سانگ ای ٹیکسٹس، نے دسمبر 2025 میں اپنے طریقۂ کار کو باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ کر دیا۔

Screenshot

نئے اہل افراد میں بارسلونا میں مقیم برطانوی نژاد اسٹریٹجک کمیونیکیشن کنسلٹنٹ ٹیس ہمفریز بھی شامل ہیں، جو 2019 سے کاتالونیا میں رہائش پذیر ہیں۔ ٹیس کے مطابق، اسپین منتقلی کے بعد جب انہوں نے خون عطیہ کرنے کی کوشش کی تو پابندی کا علم ہونے پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔

ٹیس نے بتایا کہ ان کی والدہ طویل عرصے تک خون عطیہ کرتی رہی ہیں اور وہ بھی معاشرے کو کچھ واپس دینا چاہتی تھیں۔ اسی وجہ سے وہ برسوں تک کاتالونیا کے بلڈ بینک سے رابطے میں رہیں اور ضوابط میں تبدیلی کا انتظار کرتی رہیں، یہاں تک کہ گزشتہ برس آخرکار یہ ممکن ہو سکا۔

Screenshot

انہوں نے کہا، “دسمبر میں ایک دوست نے بتایا کہ اب کاتالونیا میں ہم خون دے سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات تھی۔”

ٹیس نے اپنی پہلی خون عطیہ اسپتال دے سانت پاؤ، بارسلونا میں جنوری کی مہم کے دوران دی۔ ان کے مطابق یہ عمل نہایت آسان اور خوشگوار تھا۔ “شروع میں میں بہت گھبرا رہی تھی، لیکن سب کچھ بڑی سہولت سے ہو گیا۔ آٹھ منٹ میں تھیلی بھر گئی، پھر میٹھا مشروب اور اسنیکس ملے۔ آپ آرام کرتے ہیں اور اچھا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی نیکی کی ہے۔”

اس موقع پر ٹیس کے ساتھ ان کی دو دوستوں نے بھی خون عطیہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بطور غیر ملکی اور مہاجر، زبان اور ثقافت کے فرق کی وجہ سے بعض اوقات معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کا احساس مشکل ہو جاتا ہے، لیکن خون عطیہ کرنا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔

ٹیس نے دیگر برطانوی شہریوں کو بھی اس مہم میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا، “میں سب کو اس کی بھرپور سفارش کرتی ہوں۔”

واضح رہے کہ کاتالونیا بھر میں خون عطیہ کرنے کے مراکز موجود ہیں، جن میں اسپتالوں کے علاوہ شہروں کے مختلف مقامات پر موبائل یونٹس بھی شامل ہیں۔ تمام مراکز کی مکمل فہرست متعلقہ حکام کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے