آداموز ٹرین حادثہ: لاپتا افراد کی تلاش جاری، خاندان بے چینی اور کرب میں مبتلا
Screenshot
قرطبہ (دوست نیوز)آداموز میں پیش آنے والے المناک ٹرین حادثے کے بعد دوپہر گزرنے کے باوجود متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ تیز رفتار ٹرینوں کے وہ دو ڈبے جنہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا، ان میں تقریباً 50 مسافر سوار تھے۔ تاحال لاپتا افراد کی تعداد سے متعلق کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
اطلاعات کے مطابق کئی خاندان گواردیا سیول کی کمانڈنسی پہنچ چکے ہیں جہاں شناخت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈی این اے کے نمونے لیے جا رہے ہیں، تاکہ نعشوں کی جلد از جلد شناخت ہو سکے اور انہیں اہلِ خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے آنے والے ایک نوجوان نے آنسوؤں کے ساتھ بتایا کہ وہ پورا دن اپنے والد سے رابطے کی کوشش کرتا رہا۔ شدید اضطراب کے عالم میں وہ کمانڈنسی سے نکلتے ہی جائے حادثہ کی طرف روانہ ہو گیا، اس امید پر کہ شاید کوئی خبر مل سکے۔
ریڈ کراس کی ٹیمیں بھی کمانڈنسی منتقل ہو چکی ہیں تاکہ سہ پہر کے وقت متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی اور عملی مدد فراہم کی جا سکے۔ انتظار کا یہ لمحہ اہلِ خانہ کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے۔
چند لاپتا افراد کی تلاش تیزی سے جاری ہے۔ ان میں مریم بھی شامل ہیں جو گزشتہ رات سے لاپتا ہیں اور الویہ ٹرین کے پہلے ڈبے میں سفر کر رہی تھیں۔ ان کے ایک رشتہ دار نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ “ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی، ہم اچھی خبر کے منتظر ہیں”۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ویلفا کے ایک خاندان کے لیے بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، جس میں ایک جوڑا اور دو بچے شامل ہیں۔
رافائل کے بھتیجے نے بھی ایکس پر بیان دیا کہ انہیں اپنے چچا کے بارے میں کوئی خبر نہیں اور “کسی بھی قسم کی معلومات قابلِ قدر ہوں گی”۔ ادھر الوارو اپنے والد آندریس کی تلاش میں تمام اسپتالوں کے چکر لگا چکے ہیں مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہمیں امید دلائی جا رہی ہے کیونکہ کچھ زخمی ابھی شناخت نہیں ہو سکے، شاید کسی نے انہیں دیکھا ہو یا مدد کی ہو”۔ آندریس بھی الویہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے، بالکل اسی طرح جیسے ریکاردو، جو میڈرڈ میں مقابلے کا امتحان دے کر واپس آ رہے تھے۔
لاپتا افراد کی تلاش کے لیے آگستین کی تصاویر بھی وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، جو ٹرین کی کیفے ٹیریا میں کام کرتے تھے۔ اسی طرح انتونیا، جوسیفا اور ان کی بیٹی آنا کے بارے میں بھی معلومات کے لیے اپیل کی جا رہی ہے، جو سفر کے دوران پہلے ڈبوں میں سوار تھیں اور گھر واپس لوٹ رہی تھیں۔
اگرچہ تاحال لاپتا اور جاں بحق افراد کی حتمی تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر اہلِ خانہ کے لیے بے چینی، خوف اور اضطراب ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ابھی تک اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔