اباسکل نے ٹرین حادثے کو سیاسی کھیل بنانے کی کوشش کی، حکومت پر شدید حملے

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/ ووکس کے سربراہ سانتیاگو اباسکل نے قرطبہ کے علاقے آداموز (Adamuz) میں پیش آنے والے ہولناک ریلوے حادثے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہسپانوی حکومت پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ اس حادثے میں اب تک 39 افراد جاں بحق اور 33 لاپتا ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اباسکل نے کہا کہ “اس وقت ملک پر جرم، جھوٹ اور عوامی مفادات سے غداری کی حکومت مسلط ہے” اور یہ کہ “ایک مافیائی حکومت کا انہدام پورے ریاستی نظام کو، قومی اور بین الاقوامی سطح پر، خطرے میں ڈال رہا ہے”۔ ووکس واحد جماعت ہے جس نے اس سانحے کے باوجود اپنی سیاسی سرگرمیاں منسوخ نہیں کیں۔

اباسکل اور ان کی جماعت نے حادثے کی وجوہات سے متعلق کسی سرکاری تحقیق کے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی وزیر اعظم پیدرو سانچیز اور مرکزی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ اسی سلسلے میں ووکس کے قومی ترجمان خوسے انتونیو فوستر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ حکومت نے ریلوے نظام کو نظر انداز کیا کیونکہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ دوسرے ممالک میں ریلوے منصوبوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

تاہم ووکس کے اندر ہی اس مؤقف پر مکمل اتفاق نظر نہیں آتا۔ اندلس کی پارلیمان میں ووکس کے ترجمان مانوئل گاویرا نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “تشخیص اور تبصرے کا وقت بعد میں آئے گا” اور یہ کہ “ہم اندازوں کی بنیاد پر بات نہیں کریں گے کیونکہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ اصل میں ہوا کیا ہے”۔

دوسری جانب اندلس کے صدر اور پاپولر پارٹی کے رہنما خوانما مورینو نے تصادم کی فضا کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم پیدرو سانچیز اور وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پونتے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ مورینو کے مطابق، “ہم سب اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں” اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے سانحات میں اداروں کے درمیان تعاون فطری اور ضروری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسی صورتحال میں اگر تعاون نہ ہو تو یہ ناقابلِ فہم ہوگا”۔

حادثے کے بعد مختلف سیاسی بیانات نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ قومی سانحات کے وقت سیاست اور ذمہ داری کے درمیان حد کہاں کھینچی جانی چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے