ٹرمپ نے گرین لینڈ اور کینیڈا پر قبضے کی نقالی کرتی ہوئی اے آئی تصاویر جاری کر دیں

Screenshot

Screenshot

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ” پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر شائع کی ہیں جن میں گرین لینڈ اور کینیڈا پر امریکی قبضہ دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں نہ صرف کینیڈا اور ڈنمارک کے زیرِ انتظام آرکٹک جزیرہ گرین لینڈ بلکہ وینزویلا کو بھی امریکی پرچم میں لپٹا ہوا دکھایا گیا ہے۔

یہ تصاویر ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ کی یورپی اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں اور گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر “رضاکارانہ یا طاقت کے ذریعے” کنٹرول حاصل کرنے کے بیانات یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

Screenshot

صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی پہلی تصویر ایک حقیقی اجلاس کی تصویر کا فوٹو مونٹاج ہے جو گزشتہ سال اگست میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہوا تھا۔ اس تصویر میں امریکہ، الاسکا، کینیڈا اور وینزویلا کو امریکی پرچم سے ڈھکا دکھایا گیا ہے۔ تصویر میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے بھی نظر آتے ہیں۔

دوسری تصویر میں بھی کینیڈا اور وینزویلا کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔

اسی دوران ٹرمپ نے ایک اور تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ برفیلے علاقے میں امریکی پرچم نصب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پس منظر میں ایک بورڈ پر لکھا ہے: “گرین لینڈ، ریاستہائے متحدہ کا علاقہ ۔ 2026”۔

ان تصاویر کے ساتھ ٹرمپ نے بعض یورپی رہنماؤں کے مبینہ نجی پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی جاری کیے اور دعویٰ کیا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ان کی “بہت اچھی گفتگو” ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جو گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی رہنماؤں کے ساتھ طے ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی اس پر قبضے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی ممالک گرین لینڈ اور ڈنمارک سے اظہارِ یکجہتی پر امریکی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے جواب میں سخت ردعمل پر غور کر رہے ہیں، تاہم وہ کسی بڑی کشیدگی سے بچنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ڈیووس میں کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جوابی کارروائی “دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا” اور ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا۔

ڈیووس میں جرمنی کے فریڈرک مرز، فرانس کے ایمانویل میکرون، کینیڈا کے مارک کارنی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن سمیت کئی عالمی رہنما شریک ہیں۔ ٹرمپ کے سیاسی اتحادیوں میں ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی اور برطانوی سیاست دان نائجل فراج بھی وہاں موجود ہوں گے۔

ادھر ڈنمارک نے پیر کے روز گرین لینڈ میں مزید فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں اور آرکٹک خطے میں نیٹو مشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے