اسپین غزہ کی امن کمیٹی میں شمولیت سے متعلق ٹرمپ کی دعوت پر غور کر رہا ہے
Screenshot
میڈرڈ: اسپین حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والی مجوزہ “غزہ امن کمیٹی” میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ تاہم لا مونکلوآ کے ذرائع کے مطابق اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے اس فورم میں شامل ہونے سے انکار پر فرانس کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ اسی تناظر میں اسپین نے اپنے حکومتی اتحادیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں اسرائیل اور شدت پسند تنظیم حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے اس امن کمیٹی کے قیام کی بات کی جا رہی ہے۔ گزشتہ اکتوبر مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ امن کانفرنس کے دوران وزیر اعظم پیدرو سانچیز اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپین کسی بھی فیصلے سے قبل سفارتی، سیاسی اور علاقائی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔