رودالیاس ٹرین کے مسافر پریشان اور بے خبر:متبادل ٹرانسپورٹ کے کچھ اضافی انتظامات کے باوجود تمام مسافروں کے لیے نشستیں دستیاب نہ ہو سکیں۔
Screenshot
بارسلونا(دوست نیوز)بدھ کے روز کاتالونیا میں رودالیاس کی کوئی بھی ٹرین نہیں چلی، لیکن اس کے باوجود بہت سے مسافر اسٹیشنوں تک پہنچ گئے۔ کچھ کو معطلی کی اطلاع ہی نہیں تھی اور کچھ اس امید میں آئے کہ شاید کوئی متبادل سروس مل جائے۔ مجموعی صورت حال شدید کنفیوژن اور مایوسی کی رہی، کہیں متضاد معلومات تھیں اور کہیں مکمل خاموشی، جبکہ عملی طور پر کوئی قابلِ عمل متبادل موجود نہیں تھا۔

صبح سویرے بارسلونا کے سانتس اسٹیشن پر مسافر ٹکٹ ویلیدیت کر کے پلیٹ فارم تک جا رہے تھے اور لاؤڈ اسپیکرز پر ایسے ٹرینوں کے اعلانات ہو رہے تھے جو آنی ہی نہیں تھیں۔ کاتالونیا کے سب سے بڑے اسٹیشن پر ابتدا میں یہ واضح ہی نہیں تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔
کچھ دیر بعد پلیٹ فارم خالی کروائے گئے، معمول سے زیادہ انفارمیشن اسٹاف تعینات کیا گیا اور میگا فون پر اعلان ہونے لگا کہ پورے نیٹ ورک میں سروس معطل ہے۔ اسٹیشن کی اسکرینیں بند تھیں اور اس بات کی تصدیق کر رہی تھیں کہ کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔

ایک مسافر کارینا نے، جو ہوسٹالریک جانا چاہتی تھیں، کہا: “ہم سب مایوس ہیں، سب کو کام پر جانا ہوتا ہے۔ ہم سیر کے لیے نہیں نکلے، کام سب سے اہم ہے۔”
ایستیلا، جو ایک وکیل ہیں اور جن کا ٹرائل تاراگونا میں تھا، نے کہا: “میں متبادل ڈھونڈ رہی ہوں، بس ہو، ٹیکسی ہو، جو بھی ملے۔”
کارولینا، جنہیں گاوا میں ڈرائیونگ ٹیسٹ دینا تھا، بولیں: “مجھے ٹرین چاہیے، اب کچھ اور دیکھنا پڑے گا۔”
یہی صورت حال میٹروپولیٹن ایریا کے دیگر اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ تاراگونا، لیکیدا اور جیرونا میں بھی دیکھی گئی، جہاں مسافروں کو متبادل ذرائع تلاش کرنے میں شدید مشکلات اور غصے کا سامنا تھا۔
تاراگونا میں صبح کے وقت اسٹیشن بند ملا۔ باہر سیکیورٹی اور رینفے کے عملے نے بتایا کہ حالیہ خراب موسم کے باعث سروس معطل ہے۔ ایک متاثرہ مسافر جوردی سولے کا کہنا تھا کہ انہیں لگا صرف رودالیاس بند ہے، ریجنلز نہیں، کیونکہ ADIF کی ایپ میں ٹرینیں چلتی دکھائی دے رہی تھیں۔
لیلیدا پیری نیوس اسٹیشن پر عام دنوں کے مقابلے میں کم مسافر تھے۔ Cervera سے گزرنے والی لائنوں کے مسافروں نے خود ہی متبادل تلاش کیے۔ ایک روزانہ سفر کرنے والے مسافر نے کہا: “یہ دوسرا دن ہے کہ میں کام پر نہیں جا سکا، کوئی متبادل ہی نہیں۔”
جہاں رودالیاس مکمل طور پر بند رہی، وہیں ہائی اسپیڈ اے وی ای سروس معمول کے مطابق چلتی رہی۔ جیرونا سے بارسلونا یا فیگیرس جانے والوں کو مفت اے وی ای پر منتقل کیا گیا، مگر لیلیدا میں بارسلونا جانے کے لیے یہی سفر دوگنی قیمت پر ممکن تھا۔
جو مسافر بارسلونا نہیں جا رہے تھے، ان کے لیے حالات اور بھی خراب تھے۔ ماتارو سے جیرونا جانے والے ایک طالب علم نے کہا کہ بارسلونا تک تو رابطہ ہے، مگر جیرونا کے لیے نہیں۔ کئی جگہوں پر بسیں ناکافی ثابت ہوئیں اور لوگوں کو خود ہی راستہ نکالنا پڑا۔
ایک مسافر نے تلخی سے کہا: “ہم ہمیشہ کی طرح بے یار و مددگار ہیں۔”
مسافروں کی الجھن میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب رودالیاس اور سرکاری ایپس میں ٹرینوں کے اوقات بدستور دکھائے جا رہے تھے۔ رینفے کے مطابق شیڈول ہٹانا ممکن نہیں، تاہم آئندہ پاپ اپ نوٹیفکیشن پر کام ہو رہا ہے۔
اے ایم بی نے 19 اضافی بسیں چلائیں، مگر اس کے باوجود کئی اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگیں۔ نجی گاڑیوں کے استعمال میں معمولی اضافہ ہوا اور میٹرو نیٹ ورک پر بھی مسافروں کا دباؤ بڑھ گیا۔
مجموعی طور پر، ایک دن کی ٹرین معطلی نے ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔ کسی کے لیے کام پر پہنچنا ناممکن ہو گیا، کسی کا انٹرویو رہ گیا، اور کسی کی ڈاکٹر کی اپائنٹمنٹ۔ ہر مسافر کی کہانی الگ تھی، مگر احساس ایک ہی تھا: اب ہر کوئی خود ہی اپنا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہے۔