اسپین میں ادویات کی قیمت کون طے کرتا ہے اور ٹرمپ یورپ پر کیوں دباؤ ڈال رہے ہیں؟
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر دباؤ کہ وہ امریکی دواساز کمپنیوں کی ادویات زیادہ قیمت پر خریدیں، ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر گیا ہے کہ ادویات کی قیمتیں کیسے طے ہوتی ہیں اور مختلف ملکوں میں ان میں اتنا فرق کیوں ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یورپ میں کم قیمتیں امریکی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں، جبکہ یورپی ممالک، خصوصاً اسپین، اس نظام کو عوامی نظامِ صحت کے تحفظ اور پائیداری کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسپین ان ملکوں میں شامل ہے جہاں خاص طور پر جنیرک ادویات نسبتاً سستی ہیں۔
اسپین میں عوامی فنڈنگ والی ادویات کی قیمت آزاد منڈی طے نہیں کرتی بلکہ یہ اختیار کمیشن انٹرمنسٹیریئل برائے ادویات کی قیمتیں (CIPM) کے پاس ہے، جو وزارتِ صحت کے تحت کام کرتا ہے۔ کسی دوا کی منظوری کے بعد یہی کمیشن فیصلہ کرتا ہے کہ اسے قومی صحت نظام میں شامل کیا جائے یا نہیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیا ہو گی۔
قیمت طے کرتے وقت دوا کے علاجی فائدے، بیماری کی شدت، متبادل علاج کی دستیابی، بجٹ پر اثرات اور لاگت و افادیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جنیرک ادویات کی قیمتیں عام طور پر کم رکھی جاتی ہیں، جبکہ نئی اور اختراعی ادویات کا ہر کیس الگ جانچا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج کم قیمت اور مریضوں کی رسائی کے ساتھ ساتھ نظامِ صحت کی پائیداری اور ادویات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس بحث کو بین الاقوامی سطح پر مزید شدت دے دی ہے۔