بادالونا میں بی نائن سے نکالے ہوئے تارکین وطن مقامی لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بن گئے،شہریوں کا احتجاج، سی 31 شاہراہ بند کر دی

Screenshot

Screenshot

بادالونا(دوست نیوز)بادالونا کے علاقے سانت روک کے رہائشیوں اور مقامی خانہ بدوش برادری نے جمعرات کے روز شاہراہ C-31 کو بلاک کر دیا۔ احتجاج کا مقصد حالیہ دنوں میں پیش آنے والی مبینہ چوری اور گھروں میں گھسنے کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھانا تھا، جن کا الزام بی نائن (B9) کے انخلا کے بعد بے گھر ہونے والے بعض افراد پر لگایا جا رہا ہے۔

Screenshot

منگل کے روز بھی علاقے کے مکینوں نے پیرش چرچ مارے دے دیو دے مونتسیرات کے سامنے احتجاج کیا تھا، جو اسی سڑک کے اوپر واقع ہے۔ یہاں گزشتہ چند ہفتوں سے پرانے قابض شدہ انسٹی ٹیوٹ کے درجنوں تارکینِ وطن کو عارضی طور پر ٹھہرایا گیا ہے۔

الفانسو بارہویں اسٹریٹ کے ایک رہائشی، جو ایونیدا مارکِس دے مونت روئیگ کے متوازی واقع ہے، نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایک بے گھر شخص، جسے وہ بی نائن سے نکالا گیا فرد قرار دیتا ہے، ان کے فلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

Screenshot

ان کے مطابق، “میری بیوی نے دروازہ ذرا سا کھلا چھوڑ دیا تھا، اسی لمحے ایک شخص اندر گھس آیا۔ اس کے چیخنے پر ہم سب باہر آئے تو وہ بھاگ نکلا۔”

اس شہری نے بادالونا کے میئر اور تمام کونسلرز سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے متحد ہوں۔

قریبی علاقے ریمئی کے رہائشی بھی احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ C-31 کے اطراف ماحول کی شدید خرابی اور عدم تحفظ میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کی شکایت انہوں نے مقامی میڈیا سے بھی کی ہے۔

رہائشیوں کا کہنا ہے، “ان دنوں ہماری گلیاں نشے میں دھت افراد سے بھری رہتی ہیں جو چیختے چلاتے ہیں اور خوف پھیلاتے ہیں۔ ہمارے بچے سکون سے چل بھی نہیں سکتے۔” ان کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر رات کے وقت اور بازار کے دنوں میں زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔

شہریوں کے مطابق چوری کی کوششیں، گاڑیوں کے نیچے چھپنے والے افراد اور بعض واقعات میں کم عمر بچوں کی موجودگی بھی دیکھی گئی ہے۔

بادالونا کے میئر زیویئر گارسیا البیول نے بلدیہ کے اجلاس میں اعلان کیا کہ شہر میں پہلا سماجی کھانے کا مرکز جلد قائم کیا جائے گا، جو سوشل سروسز کے زیرِ کفالت افراد کے لیے ہوگا۔ تاہم، انہوں نے فوری طور پر نیا شیلٹر کھولنے سے انکار کر دیا، اگرچہ مستقبل میں اس امکان کو رد بھی نہیں کیا۔

اس مرکز میں وہ افراد شامل نہیں ہوں گے جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں یا جو سوشل سروسز کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے