“ہم ایسے نظام میں رہ رہے ہیں جہاں ہماری نہ آواز ہے نہ اختیار”مشہور یوٹیوبر ایل خوکاس،

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ(دوست نیوز)مشہور یوٹیوبر ایل خوکاس، جن کے سوشل میڈیا چینلز پر ایک کروڑ سے زائد فالوورز ہیں، پروگرام ‘ایل ہورمیگیرو’ میں مہمان بنے جہاں انہوں نے نہ صرف اپنی آن لائن موجودگی پر بات کی بلکہ اسپین کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر بھی کھل کر رائے دی۔

پروگرام کے میزبان پابلو موتوس نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایل خوکاس خود کو متنازع نہیں سمجھتے، لیکن ان کے گرد کئی بار بڑے تنازعات کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر یوٹیوبر نے جواب دیا کہ وہ خود کو بھی متنازع نہیں مانتے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی یا سماجی معاملات پر اپنی رائے دینا سیاست کہلاتا ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں۔

Screenshot

ایل خوکاس نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک اصل تنازع کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا ہوتا ہے، جبکہ سیاست اور سماجی مسائل جیسے موضوعات عوامی ہیں اور ان پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو سیاست کے بارے میں بہتر فہم ہونی چاہیے، کیونکہ اگر آپ کو علم ہی نہیں تو ووٹ دینے کا مطلب بھی ختم ہو جاتا ہے۔

جب پابلو موٹوس نے پوچھا کہ وہ موجودہ سیاست کو کیسے دیکھتے ہیں تو ایل خوکاس نے کہا کہ صورتحال اچھی نہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایک نازک موضوع میں داخل ہو رہے ہیں، مگر پھر بھی اپنی رائے پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جماعتی نظام پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جہاں عوام کی نہ حقیقی آواز ہے اور نہ حقیقی اختیار۔ انہوں نے موجودہ جمہوری نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ چاہے اقتدار میں ردوبدل ہو، اصل میں سب کچھ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ ان کے بقول پی پی اور پی ایس او ای میں تبدیلی کے باوجود معاشرتی ماڈل نہیں بدلتا، اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کا اثر محدود ہے۔

گفتگو کے دوران دیگر موضوعات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں سیردان اور آبالوس سے متعلق یو سی او کی رپورٹ، وینزویلا میں نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال، ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اور اسپین میں خود روزگار افراد پر ٹیکس کا نظام شامل تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے