پالینسیا میں استحصالی حالات میں کام کرنے والے 12 تارکینِ وطن آزاد، 5 افراد گرفتار

Screenshot

Screenshot

پالینسیا میں قومی پولیس نے لیبر انسپکشن کے تعاون سے ایک کارروائی کے دوران نان بائیوں کے کارخانوں میں استحصالی حالات میں کام کرنے والے 12 تارکینِ وطن کو بازیاب کرا لیا، جبکہ اس نیٹ ورک سے منسلک پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ افراد سے روزانہ 17 گھنٹے تک کام لیا جاتا تھا، انہیں نہ آرام میسر تھا اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔

یہ کارروائی جون 2025 میں شروع ہونے والی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جن میں پالینسیا کے علاقوں ایمپودیا اور ایگیلار دے کیمپوو میں قائم نان بائیوں میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات سے سامنے آیا کہ ملزمان غیر ملکی مزدوروں کی کمزور قانونی حیثیت سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور جعلی یا مشکوک سرٹیفکیٹس کے ذریعے رہائشی و ورک پرمٹس حاصل کرواتے تھے، جن کے بدلے 15 سے 20 ہزار یورو تک وصول کیے جاتے تھے۔

پولیس کے مطابق مزدوروں کو دھمکی دی جاتی تھی کہ اگر انہوں نے احکامات نہ مانے تو ان کے اجازت نامے منسوخ کروا دیے جائیں گے اور انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ کام کی جگہوں پر نگرانی کے کیمرے نصب تھے اور مزدوروں کو پولیس یا لیبر انسپکشن کے دوران جھوٹ بولنے کی ہدایات دی جاتی تھیں، جس سے خوف اور دباؤ کی فضا قائم تھی۔

رپورٹ کے مطابق نان بائیوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر جاتا تھا، دروازے اور کھڑکیاں کھولنے پر پابندی تھی، جبکہ صفائی کے انتہائی ناقص حالات، کیڑے مکوڑوں اور چوہوں کی موجودگی بھی پائی گئی۔ بعض مزدور انہی جگہوں سے ملحق گھروں میں رہنے پر مجبور تھے۔

کارروائی کے دوران پانچ مقامات پر چھاپے مارے گئے، دو نان بائیاں عدالتی حکم پر سیل کر دی گئیں، تین ہزار یورو نقدی اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں۔ پولیس نے عندیہ دیا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ اور استحصال سے متعلق معلومات خفیہ ہیلپ لائن پر فراہم کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے