مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی گنجائش موجود ہے، سانچز
Screenshot
بارسلونا، اسپین میں ورلڈ موبائل کانگریس کی افتتاحی تقریب کے اختتام پر شام کی رسمی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ہمیشہ بات چیت کی طرف واپسی اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس کے مقابلے میں ہتھیاروں کی راہ اختیار کرنا بہتر نہیں ہے۔
سانچیز نے واضح کیا کہ ایک طرف کسی “زہریلے اور ظالم رژیم” مثلاً ایران کی مخالفت کی جا سکتی ہے، تو دوسری طرف اس کے خلاف فوجی مداخلت کو غیر منصفانہ، خطرناک اور بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تشدد اور جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارتکاری ہی علاقے میں پائیدار امن لا سکتے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے خلاف حالیہ حملہ ایک یکطرفہ فوجی اقدام تھا اور اس سے عالمی قانون اور استحکام متاثر ہو رہے ہیں، اس لئے کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
ریاستی و عوامی شخصیات، بشمول شاہ فلپ ششم، نے بھی کانگریس کے موقع پر تنازع کے حل میں سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بات کی۔