اسپین کے صاف جواب کے بعد امریکہ نے ایران پر حملوں کے لیے ہسپانوی اڈوں سےاپنے ٹینکر طیارے ہٹا لیے

Screenshot

Screenshot

امریکہ نے مورون دے لا فرونتیرا (سیویل) اور روتا (قادس) میں واقع فوجی اڈوں سے اپنے تقریباً دس KC-135T اور KC-135R ٹینکر طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ یہ طیارے ایران پر امریکی فضائی حملوں میں شامل طیاروں کو فضاء میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے انتہائی اہم تھے۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ہسپانوی حکومت نے واضح طور پر خبردار کیا کہ وہ ان اڈوں کو ایسے فوجی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو دونوں ممالک کے معاہدے سے باہر ہوں۔

فوجی ذرائع کے مطابق، یہ طیارے گزشتہ رات سے مرحلہ وار روانہ ہونا شروع ہوئے اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے فوجی اڈوں پر منتقل ہو گئے ہیں۔ ان ممالک نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے “ضروری اور متناسب دفاعی اقدامات” کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ہسپانوی وزیر دفاع کا بیان

وزیر دفاع مارگریتا روبلس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے اپنے ٹینکر طیارے واپس بلا لیے ہیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان اڈوں سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں مدد فراہم نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا:“چونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں سے کوئی فوجی معاونت فراہم نہیں کی جائے گی، اس لیے انہوں نے خود مختار فیصلہ کرتے ہوئے اپنے طیارے دیگر اڈوں پر منتقل کر دیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ہسپانوی فوجی اڈوں کا استعمال صرف بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہو سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی “یکطرفہ” ہے اور اسے کسی بین الاقوامی قرارداد کی حمایت حاصل نہیں۔

البتہ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی اجازت ہو تو یہ اڈے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

ہسپانوی وزیر خارجہ کا مؤقف

وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے بھی واضح کیا کہ:“روتا اور مورون کے اڈوں کے استعمال کے بارے میں آخری فیصلہ اسپین کا ہوتا ہے، اور اس معاملے میں جواب واضح طور پر ’نہیں‘ ہے۔”

انہوں نے مزید کہاہسپانوی خودمختاری والے فوجی اڈے کسی ایسے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوں گے جو امریکہ کے ساتھ معاہدے یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہ ہو۔

حکومت ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس قسم کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔

یہ اڈے مشترکہ استعمال میں ہیں، لیکن خودمختاری اسپین کی ہے، اس لیے آخری فیصلہ اسپین کا ہی ہوتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے