بارسلونا: یومِ خواتین پر ہزاروں کا احتجاج؛ عالمی جنگوں اور ‘رجعت پسندانہ حملوں’ کے خلاف دہائی
Screenshot
بارسلونا (خصوصی رپورٹ)کاتالان دارالحکومت بارسلونا کی سڑکیں اتوار کے روز "خواتین کے عالمی دن” کے موقع پر نعروں سے گونج اٹھیں، جہاں 23 ہزار سے زائد خواتین نے صنفی مساوات، امن اور بنیادی حقوق کے حق میں دو بڑی ریلیاں نکالیں۔
پولیس گواردیا ارباناکے مطابق، ‘اسمبلی 8M’ کی جانب سے نکالی گئی مرکزی ریلی میں تقریباً 22,000 افراد شریک ہوئے۔ یہ مارچ صبح 11:30 بجے ‘جاردینیتس دی گراسیا’ سے شروع ہوا اور شہر کے اہم راستوں سے ہوتا ہوا ‘آرک دی ترومف’ پر اختتام پذیر ہوا۔ اس سال احتجاج کا مرکزی عنوان "نوآبادیاتی سامراج اور فاشزم کے خلاف ٹرانس فیمنسٹ جدوجہد” رکھا گیا تھا۔
مظاہرین نے عالمی سطح پر خواتین کے حقوق پر ہونے والے "رجعت پسندانہ حملوں” کی مذمت کی اور فلسطین میں جاری نسل کشی، یوکرین کی جنگ، اور ایران و افغانستان میں خواتین پر ہونے والے جبر کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ریلی میں شریک خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "مستقبل خواتین کا ہے” اور "ہم آزادی کے لیے کسی سے اجازت نہیں مانگیں گی” جیسے نعرے درج تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ایک بینر پر یہ بھی تحریر تھا کہ "حتیٰ کہ ChatGPT بھی نہیں سمجھ پا رہا کہ ہمیں اب تک برابری کی اہمیت کیوں سمجھانی پڑ رہی ہے”۔
اس احتجاجی لہر میں سپین کے وزیرِ ثقافت ارنست اورتاسون اور کاتالونیا کی وزیرِ مساوات ایوا مینور سمیت متعدد اعلیٰ سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
دوسری جانب، ‘موومنٹ فیمنسٹ’ کے بینر تلے ایک متبادل ریلی بھی نکالی گئی جس میں 1,400 کے قریب خواتین شریک ہوئیں۔ اس گروپ نے جسم فروشی کے مکمل خاتمے اور کھیلوں میں خواتین کے مخصوص زمروں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ دونوں ریلیوں نے مجموعی طور پر یہ پیغام دیا کہ کاتالونیا کی خواتین صنف کی بنیاد پر ہونے والے استحصال اور عالمی جنگوں کے خلاف متحد ہیں۔