ہر پانچ میں سے ایک شہری غربت کے خطرے سے دوچار ہے۔بارسلونا کے میٹروپولیٹن علاقے سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں انکشاف
Screenshot
بارسلونا کے میٹروپولیٹن علاقے میں غربت کے خطرے سے دوچار افراد کی تعداد تشویشناک سطح پر برقرار ہے۔ Institut Metròpoli کی تازہ رپورٹ کے مطابق علاقے کی تقریباً 19.4 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ 6 لاکھ 60 ہزار افراد، غربت کے خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 36 میونسپلٹیوں پر مشتمل Área Metropolitana de Barcelona (AMB) سے حاصل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں معمولی کم ہوئی ہے، تاہم مختلف علاقوں میں صورتحال یکساں نہیں۔ Barcelona شہر میں غربت کا خطرہ 16.4 فیصد ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں میں یہ شرح بڑھ کر 22 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی کورونا وبا کے بعد معاشی بحالی کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، لیکن عوامی سطح پر مالی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 23 فیصد سے زائد افراد کو ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اسی طرح تقریباً 35 فیصد افراد ہنگامی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ 20 فیصد گھروں کو سردیوں میں مناسب طور پر گرم رکھنے سے قاصر ہیں۔
رہائش کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں گھریلو خرچ 22 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے، جس کے باعث خاص طور پر کرایہ دار طبقہ شدید دباؤ میں ہے، اگرچہ مجموعی آمدنی میں بھی کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بچوں کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16 سال سے کم عمر کے 31 فیصد سے زائد بچے غربت کے خطرے میں ہیں، جو تقریباً ایک لاکھ 48 ہزار بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی شہریوں اور بے روزگار افراد میں غربت کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سماجی امداد، جیسے پنشن اور بے روزگاری الاؤنس، غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان سہولیات کے بغیر غربت کی شرح دوگنی ہو سکتی تھی، جو سماجی تحفظ کے نظام کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔