مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کو روکنے کی قرارداد منظور،قرارداد علامتی ہے، حکومت قانونی طور پر پابند نہیں۔ردعمل
Screenshot
اسپین کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے (ریگولرائزیشن) کے عمل کو روک دے۔ یہ قرارداد پاپولر پارٹی،جنتس پر کاتالونیا،ووکس اور یونین دیل پویبلو ناوارو (UPN) کے ووٹوں سے منظور ہوئی۔
وزیراعظم پیدروسانچز کی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ پارلیمانی اکثریت نہ ہونے کے باوجود اس اقدام کو ایک صدارتی حکم (ڈیکری) کے ذریعے نافذ کرے گی۔
یہ قرارداد حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی مہاجرین کو رہائشی اجازت دینے کے منصوبے سے دستبردار ہو جائے۔ تاہم، اس قرارداد کی حیثیت علامتی ہے اور یہ حکومت پر قانونی طور پر پابند نہیں۔
قرارداد کے حق میں 176 ووٹ جبکہ مخالفت میں 172 ووٹ آئے، جن میں بائیں بازو کی جماعتیں، Basque Nationalist Party اور کولیشن کیناریہ شامل تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنتس نے اس قرارداد کی حمایت کی، حالانکہ اس کی اپنی ترمیم، جس میں کاتالونیا کو امیگریشن کے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، مسترد کر دی گئی۔
پارلیمان میں حالیہ ووٹنگز نے ایک نئے سیاسی اتحاد کو نمایاں کیا ہے، جہاں دائیں بازو کی ہسپانوی اور کاتالان قوم پرست جماعتیں امیگریشن کے معاملے پر ایک ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ امیگریشن پر سخت کنٹرول ضروری ہے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ ریگولرائزیشن یورپی اصولوں اور European Pact on Migration and Asylum سے متصادم ہے۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی تارکین وطن کی اپنے ممالک واپسی اور جرائم میں ملوث افراد کی جلد بے دخلی کے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ منگل کو پارلیمان میں زیر بحث آیا تھا، جہاں پی پی کی رکن صوفیا آسیدو نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ “ہزاروں مجرموں” کو قانونی حیثیت دینا چاہتی ہے، جبکہ جنتس کے نمائندے نے دوبارہ کاتالونیا کو امیگریشن اختیارات منتقل کرنے کا مطالبہ دہرایا۔