ایزابیل دیاز آیوسو کی روحانی تبدیلی، غیر مذہبی ہونے سے لے کر “تقریباً ہر ہفتے چرچ جانے” تک
Screenshot
میڈرڈ کی علاقائی صدر ایزابیل دیاز آیوسو نے بدھ کے روز ایک انٹرویو میں اپنی مذہبی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ اب خود کو کیتھولک مانتی ہیں اور تقریباً ہر ہفتے چرچ (مِسا) میں شرکت کرتی ہیں۔ یہ انٹرویو OK Diario کو دیا گیا، جس کی سربراہی Eduardo Inda کر رہے ہیں، اور یہ گفتگو ایسٹر سے قبل سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر کم جاتی ہیں، لیکن اپنے سرکاری فرائض کی وجہ سے اکثر مذہبی تقاریب میں شریک رہتی ہیں“میں کم جاتی ہوں، لیکن کام کے سلسلے میں اکثر جانا ہوتا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ میرا چرچ جانا ہو ہی جاتا ہے۔”
ایوسو کے مطابق میڈرڈ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مذہب اور روایت کی گہری جڑیں ہیں“جب جلوس نہیں ہوتے تو جنازے ہوتے ہیں، یا خاص عبادات۔ اسی لیے میں تقریباً ہر ہفتے مِسا میں شرکت کرتی ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ان کی ذاتی عقیدت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ورثہ ہے“ہم ایک کیتھولک روایت رکھنے والا ملک ہیں، جہاں آزادی اور زندگی کو بنیادی اقدار سمجھا جاتا ہے، اور ہم دوسروں کا احترام کرتے ہیں۔”
تاہم اس بیان نے اس لیے توجہ حاصل کی ہے کیونکہ ماضی میں وہ خود کو غیر مذہبی قرار دیتی رہی ہیں۔ 2019 میں El País کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے بچپن میں ہی ایمان کھو دیا تھا، خاص طور پر اپنے دادا کے انتقال کے بعد۔ اسی سال ایک ٹی وی گفتگو میں Susanna Griso کے سامنے بھی انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ مذہبی نہیں ہیں اور پارٹی ساتھیوں کے ساتھ چرچ نہیں جاتیں۔
اب ان کے حالیہ بیان کو بعض مبصرین “روحانی بیداری” یا تبدیلی (epifanía) قرار دے رہے ہیں، کیونکہ چند ہی برسوں میں ان کا مؤقف نمایاں طور پر بدل گیا ہے۔