اسپین میں مقیم ایک غیر ملکی خاتون کی اسپین میں طرزِ زندگی پر دلچسپ تبصرہ
Screenshot
“میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا آہستہ نہیں چلا جتنا اسپین آ کر چل رہی ہوں۔”یہ بات برطانوی نژاد خاتون سوزی نے کہی، جو اس وقت سلامانکا میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مطابق اسپین کا روزمرہ کا اندازِ زندگی نہایت منفرد ہے، جسے باہر سے آنے والے افراد فوراً محسوس کرتے ہیں۔
اپنی ایک ویڈیو میں سوزی نے بتایا کہ اسپین آنے کے بعد انہیں سب سے زیادہ حیرت لوگوں کے چلنے کی رفتار پر ہوئی۔ ان کے بقول:
“میں نے پہلے کبھی اتنی سست رفتاری سے چلنے کا تجربہ نہیں کیا۔ یہاں کی رفتار تو جیسے بہت ہی دھیمی ہے۔”وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے خود کو اس رفتار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، مگر ابھی تک مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ہنستے ہوئے وہ تسلیم کرتی ہیں:
“میں نے کوشش کی کہ میں بھی اتنا آہستہ چلوں، لیکن یہ میرے لیے مشکل ہے۔”سوزی کے مطابق یہ صرف چلنے کی رفتار کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی کو دیکھنے کا ایک مختلف انداز ہے، جہاں وقت اور ترجیحات کا تصور کچھ اور ہی ہے۔
انہوں نے ایک اور دلچسپ پہلو کی نشاندہی کی کہ اسپین میں لوگ سڑکوں پر کھڑے ہو کر لمبی گفتگو کرتے ہیں۔“آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ سڑک کے بیچ میں کھڑے ہو کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں، بعض اوقات پوری فٹ پاتھ گھیر لیتے ہیں، اور کافی دیر تک بات جاری رہتی ہے،” وہ بتاتی ہیں۔
تاہم وہ اس بات پر تنقید نہیں کرتیں بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے خیال میں اس رویے کے پیچھے ایک مثبت سوچ کارفرما ہے۔
“میرا خیال ہے کہ یہاں لوگ لمحے کو جینا پسند کرتے ہیں اور اس وقت سب سے اہم چیز یعنی گفتگو اور انسان پر توجہ دیتے ہیں۔”
ان کے مطابق اسپین میں انسانی تعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور یہی چیز اس معاشرے کو منفرد بناتی ہے۔
آخر میں سوزی نے کہا“یہ زندگی گزارنے کا ایک بہت خوبصورت انداز ہے، لیکن مجھے ابھی اس کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہونے میں وقت لگے گا۔”