“حیران کرنے کے بارے میں جاپان سے زیادہ کون جانتا ہے؟”ڈونلڈ ٹرمپ کا جاپان کی وزیرِاعظم سے مذاق
Screenshot
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی وزیرِاعظم Sanae Takaichi کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ایک متنازع جملہ کہہ کر سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔ انہوں نے ایران پر حالیہ امریکی حملے کا دفاع کرتے ہوئے دوسری جنگِ عظیم کے واقعے پرل ہاربر کا حوالہ مذاق کے انداز میں دیا، جسے حساس اور غیر مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو پہلے سے کیوں آگاہ نہیں کیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ “ہم حیران کرنا چاہتے تھے، اور حیران کرنے کے بارے میں جاپان سے زیادہ کون جانتا ہے؟” ان کا اشارہ 1941 میں پرل ہاربر پر جاپانی حملے کی طرف تھا، جس میں ہزاروں جاپانی ہلاک ہوئے تھے۔
اس موقع پر Sanae Takaichi نے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ان کے چہرے کے تاثرات اور جسمانی زبان سے واضح تھا کہ وہ اس تبصرے سے غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھیں۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ مترجم کے ذریعے بات سنتے ہوئے قدرے خاموش اور سنجیدہ رہیں۔
پرل ہاربر کا حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم اور تکلیف دہ باب سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد امریکہ نے جاپان کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ اس جنگ کا اختتام Hiroshima اور Nagasaki پر ایٹمی بمباری کے بعد ہوا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف تاریخی حساسیت کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ امریکہ اور جاپان کے درمیان قائم قریبی تعلقات کے تناظر میں بھی غیر محتاط سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ایران پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تھا، اگرچہ اس دعوے کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔