اٹلی،عدالتی اصلاحات ریفرنڈم وزیرِاعظم جورجیا میلونی کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان
Screenshot
اٹلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق ہونے والا ریفرنڈم وزیرِاعظم جورجیا میلونی کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے اپنے اتحاد کو مضبوط بنانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ 22 اور 23 مارچ کو ہونے والی اس ووٹنگ میں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا ججوں اور پراسیکیوٹرز کے کیریئر کو الگ کیا جائے اور اعلیٰ عدالتی کونسل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے یا نہیں۔
یہ معاملہ بظاہر عدالتی نظام کی تنظیمِ نو سے متعلق ہے، مگر انتخابی مہم کے دوران یہ ایک واضح سیاسی مقابلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حکومت “ہاں” کے حق میں مہم چلا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن “نہیں” کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر ووٹرز قانونی نکات کے بجائے اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔
رائے عامہ کے حالیہ جائزوں میں دونوں فریقوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم اصلاحات کے مخالفین کو کچھ برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر “نہیں” کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے بائیں بازو کی جماعتوں، خصوصاً ڈیموکریٹک پارٹی اور فائیو اسٹار موومنٹ، کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب اگر اصلاحات منظور ہو جاتی ہیں تو یہ میلونی حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہوگی اور 2027 کے عام انتخابات سے قبل اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ میلونی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ ریفرنڈم کے نتیجے سے قطع نظر وہ استعفیٰ نہیں دیں گی۔
اٹلی میں عدلیہ کا کردار طویل عرصے سے متنازع رہا ہے، خاص طور پر سابق وزیرِاعظم برلیوسکونی کے دور میں، جب عدلیہ اور سیاست کے درمیان کشیدگی عروج پر رہی۔ موجودہ ریفرنڈم کو اسی تاریخی تناظر کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔