مونتیرواور گیبریل کا مشترکہ سیاسی کام “بہت اچھا خیال” قرار،تاہم کسی انتخابی اتحاد کی تشکیل نہیں

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/پودیموس کی یورپی رکن پارلیمنٹ اور جماعت کی نائب رہنما آئرین مونتیرو نے کہا کہ رفیان کے ساتھ “ٹیم بنانا” ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس کا مطلب فوری طور پر کسی انتخابی اتحاد کی تشکیل نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب وقت آئے گا تو اتحاد خود بخود سامنے آ جائیں گے۔

انہوں نے ہسپانوی نشریاتی ادارے TVE سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی موجودہ سرگرمیاں صرف آئندہ عام انتخابات تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

دونوں رہنما 9 اپریل کو بارسلونا میں ایک مشترکہ تقریب میں شریک ہوں گے، جس کا مقصد بائیں بازو کی سیاست کے مستقبل پر غور کرنا ہے۔ اس تقریب کا عنوان “Què s’ha de fer?” (کیا کرنا چاہیے؟) رکھا گیا ہے، جبکہ اس کی میزبانی سابق کومونیس رہنما Xavier Domènech کریں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ تقریب صرف خیالات کے تبادلے کے لیے ہے اور اس کا براہ راست تعلق کسی انتخابی اتحاد سے نہیں۔

مونتیرو نے کہا کہ اس وقت ضروری ہے کہ بائیں بازو کے ووٹرز کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، جس کے لیے ایک مضبوط اور متحد بائیں بازو ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ بنیادی اصول واضح ہوں تو مستقبل میں اتحاد خود بخود بن جائیں گے۔

Movimiento Sumar نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تمام اقدامات اہم ہیں جو بائیں بازو کو وسیع تر اتحاد کی طرف لے جائیں تاکہ فیخو اور اباسکل کو حکومت بنانے سے روکا جا سکے۔

اسی طرح سوشلسٹ جماعت کی نائب صدر ماریا خیسوس مینترو نے بھی اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں میں اتحاد پر زور دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پودیموس کو حالیہ علاقائی انتخابات، خاص طور پر کاستیا و لیون اور اراگون میں، کمزور نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان انتخابات میں پارٹی کا ووٹ شیئر نہایت کم رہا جبکہ دیگر بائیں بازو کی جماعتیں بھی محدود کامیابی حاصل کر سکیں۔

اسی تناظر میں رفیان نے پہلے بھی بائیں بازو کی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ “انتخابی تقسیم” سے بچیں اور ایک یا دو مشترکہ فہرستوں کے ذریعے انتخابات میں حصہ لیں۔

فروری میں پودیموس نے رفیان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور Ione Belarra نے خبردار کیا تھا کہ محض انتخابی حساب کتاب پر مبنی اتحاد بائیں بازو کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

تاہم اب مونتیرو اور رفیان کا مشترکہ پروگرام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بائیں بازو میں رابطوں اور ممکنہ تعاون کی فضا دوبارہ بن رہی ہے، خاص طور پر آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے