ہیڈ فونز نوجوانوں کی سماعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں: ایک خاموش بہرا پن جو آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے
Screenshot
میڈرڈ/آج کل زیادہ سے زیادہ نوجوان کان، ناک اور گلے کے ماہرین (ENT اسپیشلسٹس) کے پاس سماعت کے مسائل کے ساتھ جا رہے ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ تیز آواز میں طویل وقت تک ہیڈ فونز کا استعمال ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نقصان علامات ظاہر ہونے سے بہت پہلے شروع ہو سکتا ہے اور اکثر صورتوں میں ناقابلِ واپسی ہوتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ 80 ڈیسی بیل سے زیادہ آواز اور طویل وقت تک شور میں رہنا ایک پوری نسل کی سماعت کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جو مستقبل میں رابطے اور معیارِ زندگی کے مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔
میڈرڈ کے سیویرو اوچوآ ہسپتال کی ماہر ڈاکٹر مار لاسّو دے لا ویگا زمورا کے مطابق نوجوانوں میں سماعت کی کمزوری (Hypoacusia) بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ہیڈ فونز کا زیادہ، طویل اور بلند آواز میں استعمال ہے، جو ماضی کے بڑے ہیڈ سیٹس سے مختلف ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ صرف اونچی آواز میں موسیقی سننا ہی مسئلہ نہیں بلکہ لمبے وقت تک سننا بھی خطرناک ہے۔ 80 ڈیسی بیل سے زیادہ آواز نقصان دہ ہے، جبکہ اگر کوئی شخص 8 گھنٹے تک اس شور میں رہے تو بہرے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 90 ڈیسی بیل کی آواز میں صرف ایک گھنٹہ بھی “آواز کے صدمے” (acoustic trauma) کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چھوٹے ہیڈ فونز زیادہ نقصان دہ ہیں کیونکہ آواز براہِ راست بند کان کے اندر جاتی ہے اور باہر نہیں پھیلتی، جبکہ بڑے ہیڈ سیٹس میں آواز کچھ حد تک منتشر ہو جاتی ہے، اس لیے نسبتاً کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اس طرح کے استعمال سے اندرونی کان کو نقصان پہنچتا ہے، اور وقت کے ساتھ یہ نقصان بڑھتا جاتا ہے جو مستقل ہو سکتا ہے۔ اس سے زبان سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات ہیئرنگ ایڈ سے بھی مکمل بہتری ممکن نہیں رہتی۔
ابتدائی علامات
ماہرین کے مطابق ابتدائی علامات میں یہ شامل ہیں:
- بات چیت یا موسیقی صاف نہ سنائی دینا
- آواز کو بار بار بڑھانا پڑنا
- کانوں میں سیٹی یا شور (Tinnitus / Acúfenos)
مسئلہ یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص مشکل ہوتی ہے کیونکہ مریض کو اپنی کمزور سماعت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
بہتری کے لیے احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر کے مطابق عادتیں بدلنا ہی واحد مؤثر طریقہ ہے، کیونکہ ایک بار نقصان ہو جائے تو اسے واپس ٹھیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مشورے:
- روایتی ہیڈ فونز کے بجائے بون کنڈکشن (ہڈی کے ذریعے آواز منتقل کرنے والے) یا بڑے ہیڈ سیٹس استعمال کریں
- آواز کی سطح کم رکھیں
- طویل وقت تک مسلسل استعمال سے گریز کریں
آخر میں ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عادتیں نہ بدلی گئیں تو آنے والے وقت میں نوجوان نسل کو سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں سنجیدہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اچھی سماعت ایک بہتر زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔