اسپین میں اسکول کینٹین کا بحران: دس لاکھ بچے مفت کھانے سے محروم
Screenshot
اسپین میں اسکول کینٹین کی سہولت کے غیر مساوی اور غیر مفت نظام نے بچوں کی بڑی تعداد کو بنیادی غذائی حق سے محروم کر دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 27.8 فیصد بچے غربت کے خطرے سے دوچار ہیں، مگر ان میں سے صرف 11 فیصد ہی کینٹین کے وظائف (بیکا) سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح لگ بھگ دس لاکھ بچے اسکول کے کھانے سے محروم رہ جاتے ہیں، جو ان کی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسکول کینٹین صرف خوراک فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بچوں کی سماجی تربیت، نظم و ضبط اور صحت مند عادات کے فروغ کا بھی اہم مرکز ہے۔ اس کے ساتھ یہ والدین کے لیے بھی سہولت پیدا کرتی ہے تاکہ وہ اپنی ملازمت اور بچوں کی دیکھ بھال میں توازن قائم رکھ سکیں۔ اس کے باوجود صرف 44.8 فیصد طلبہ ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
Educo کے مطابق موجودہ نظام مؤثر نہیں کیونکہ بہت سے مستحق خاندانوں کو مکمل مالی مدد نہیں ملتی، جس کے باعث وہ جزوی امداد کے باوجود کینٹین استعمال نہیں کر پاتے۔ مزید یہ کہ ایک تہائی کینٹینز میں تیار شدہ کھانوں کا زیادہ استعمال اور غذائی معیار پر سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب Plataforma Comedor Universal Por Derecho اور سیاسی جماعت Más Madrid مفت اور یونیورسل کینٹین کے قیام کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم مختلف خودمختار علاقوں میں امدادی نظام کے اختلافات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام بچوں کو بلا امتیاز مفت اور معیاری خوراک فراہم نہیں کی جاتی، تب تک غربت اور تعلیمی عدم مساوات کا یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔