بارسلونا: نامعلوم سپرم ڈونر کے ذریعے نایاب موروثی بیماری کے عالمی سطح پر پہلے کیس کی نشاندہی
Screenshot
بارسلونا میں ایک نایاب موروثی بیماری کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک ہی نامعلوم سپرم ڈونر کے ذریعے منتقل ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا دستاویزی کیس ہے۔
یہ تحقیق Hospital Vall d’Hebron اور Hospital Santa Maria de Lleida کے ماہرین نے اپنے تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر کی، جسے سائنسی جریدے Frontiers in Immunology میں شائع کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق یہ بیماری، جسے angioedema hereditario کہا جاتا ہے، ایک مخصوص جین (F12) سے وابستہ ہے اور اسے ایک گمنام سپرم ڈونر کے ذریعے مختلف بچوں میں منتقل ہوتے ہوئے پایا گیا۔
مطالعے میں بتایا گیا کہ تمام متاثرہ افراد ایک ہی ڈونر کے سپرم کے ذریعے مصنوعی تولیدی طریقہ کار کے تحت پیدا ہوئے تھے اور ان سب میں ایک ہی جینیاتی تبدیلی موجود تھی۔
تحقیق کا آغاز ایک مریضہ سے ہوا جسے چہرے اور جسم کے دیگر حصوں میں بار بار سوجن کی شکایت تھی، جو عام الرجی کے علاج سے ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ بعد ازاں ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ الرجی نہیں بلکہ ایک نایاب موروثی بیماری ہے۔
جینیاتی تجزیے میں F12 جین کی T328K نامی تبدیلی کی نشاندہی ہوئی، جو تقریباً 100 فیصد کیسز میں اس بیماری کا سبب بنتی ہے۔ مزید تحقیق کے دوران یہی تبدیلی دیگر افراد میں بھی پائی گئی، جس سے شبہ ہوا کہ یہ جین ڈونر سے منتقل ہوا ہے۔
بعد میں ماہرین نے متعلقہ فرٹیلٹی کلینک سے رابطہ کیا، جس نے سپرم بینک کے ساتھ مل کر تصدیق کی کہ ڈونر خود اس جینیاتی تبدیلی کا حامل تھا، اگرچہ اس میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
اس کے بعد کلینک نے ان تمام خواتین کو مطلع کیا جنہوں نے اس ڈونر کا سپرم استعمال کیا تھا، جس سے مزید متاثرہ یا کیریئر افراد کی نشاندہی ممکن ہوئی، جن میں سے کچھ میں ابھی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بیماری جلد، نظامِ ہضم اور سانس کی نالی میں سوجن کا باعث بنتی ہے اور بعض صورتوں میں خطرناک بھی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی شدت ہر مریض میں مختلف ہوتی ہے۔
تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ مردوں میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 60 سے 80 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بظاہر صحت مند ڈونر بھی اس جینیاتی بیماری کو آگے منتقل کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اسکریننگ زیادہ تر متعدی اور عام موروثی بیماریوں تک محدود ہے، لیکن اس تحقیق کے بعد بعض علاقوں میں F12 جین کی مخصوص جانچ پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔