سات لاکھ مسلمان کاتالونیا میں آباد ہیں،جو اسپین کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ریجن ہے
Screenshot
Observatorio Demográfico de CEU CEFAS کی ایک رپورٹ کے مطابق کاتالونیا اسپین میں مسلم آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا خطہ ہے، جہاں تقریباً 7 لاکھ مسلمان آباد ہیں، جبکہ اس کے بعد اندلس اور ویلنشیا کا نمبر آتا ہے۔
رپورٹ “Demografía del Islam en España” کے مطابق کاتالونیا میں مسلم آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 9 فیصد ہے، جو اسے ان علاقوں میں شامل کرتی ہے جہاں مسلم آبادی کا تناسب خاصا نمایاں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آغاز تک اسپین میں مسلم آبادی 24 سے 25 لاکھ کے درمیان تھی، جو کل آبادی کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہے۔ اس تناظر میں کاتالونیا نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے بلکہ یہاں آبادی میں تبدیلیاں بھی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
پیدائش کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کاتالونیا میں پیدا ہونے والے 19 فیصد بچوں کے کم از کم ایک والدین مسلمان تھے، جو اسپین میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ یہ شرح مرسیا اور لا ریوجا کے برابر ہے، جبکہ قومی اوسط 11 فیصد ہے۔
صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو جیرونا میں یہ شرح 27 فیصد، لیلیدا میں 25 فیصد، تارّاگونا میں 23 فیصد اور بارسلونا میں 16 فیصد رہی۔
اسی طرح 20 سے 44 سال کی عمر کے مردوں میں بیرون ملک پیدا ہونے والے مسلمانوں کا تناسب لیلیدا میں 22 فیصد، جیرونا میں 18 فیصد، تارّاگونا میں 16 فیصد اور بارسلونا میں 12 فیصد ہے، جو قومی اوسط (تقریباً 8 فیصد) سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلی نسل کے تقریباً 85 فیصد مسلمان مہاجرین افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سے قریب 65 فیصد مراکش میں پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ پاکستان، سینیگال، الجزائر، مالی، گیمبیا اور بنگلہ دیش بھی اہم ممالک میں شامل ہیں۔
مزید یہ کہ مسلم خواتین کی شرح پیدائش اسپین کی مقامی اور غیر مسلم مہاجر خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، خاص طور پر مراکشی خواتین میں۔
رپورٹ کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ مسلم خواتین بچوں کی پیدائش کے وقت شادی شدہ ہوتی ہیں، جبکہ مقامی ہسپانوی خواتین میں یہ شرح 47 فیصد ہے۔ اس کے برعکس مسلم خواتین کی ملازمت اور سوشل سکیورٹی میں شمولیت کی شرح کافی کم بتائی گئی ہے۔
آخر میں، بے روزگاری، غربت سے متعلق امداد اور جرائم کے کچھ اشاریے مسلم آبادی میں نسبتاً زیادہ پائے گئے، تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جرائم میں ملوث نہیں ہے۔