بلجیم میں یہودی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے فوج تعینات

Screenshot

Screenshot

برسلز / 23 مارچ 2026 کو بلجیم نے ملک کے بڑے شہروں میں یہودی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام حالیہ دنوں میں بلجیم اور نیدرلینڈز میں پیش آنے والے مبینہ یہود مخالف حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس ماہ لیژ میں ایک عبادت گاہ (سیناگوگ) کے باہر دھماکے کے بعد کیا گیا، جسے حکام نے یہود مخالف کارروائی قرار دیا تھا۔

بلجیم کے وزیر دفاع Theo Francken نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ “آج سے ہم برسلز اور اینٹورپ کی سڑکوں پر دوبارہ فوج تعینات کر رہے ہیں کیونکہ سیکیورٹی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔”

حکام کے مطابق یہ فوجی دستے وفاقی پولیس کے ساتھ مل کر عبادت گاہوں، یہودی اسکولوں اور دیگر اہم مقامات کی حفاظت کریں گے۔ اینٹورپ کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ اب شہر پہلے سے زیادہ محفوظ ہے اور ہم یہود دشمنی کو مسترد کرتے ہیں۔

سیکیورٹی میں اضافہ نیدرلینڈز میں حالیہ حملوں کے بعد بھی کیا گیا ہے، جہاں Rotterdam میں ایک سیناگوگ کو نذر آتش کیا گیا جبکہ Amsterdam میں ایک یہودی اسکول کے قریب دھماکہ ہوا۔ ان واقعات میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ڈچ پولیس نے روٹرڈیم واقعے میں 17 سے 19 سال کے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسی دوران ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امریکی سفارتخانے کو بھی اس ماہ ایک بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جسے تحقیقاتی حکام نے دہشت گردی قرار دیا۔

بلجیم کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق فوجی تعیناتی تین مراحل میں کی جائے گی: پہلے برسلز اور اینٹورپ، اور بعد میں لیژ میں۔

انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد دنیا بھر میں یہودی کمیونٹیز کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں لندن کے شمالی علاقے میں ایک یہودی تنظیم کی چار ایمبولینسوں کو بھی نذر آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے