Screenshot
بارسلونا کے ساگرادا فامیلیا میٹرو اسٹیشن کی مشہور ایسکلیٹر ایک بار پھر سوشل میڈیا ویڈیوز بنانے والوں کے لیے خطرناک “اسٹوڈیو” میں تبدیل ہو گئی ہے، حالانکہ حکام کی جانب سے اس رجحان کو روکنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
نہ تو ان ایسکلیٹرز کو وقفے وقفے سے بند کرنا، اور نہ ہی موبائل فون استعمال سے منع کرنے والے سائن بورڈز اس خطرناک ٹرینڈ کو ختم کر سکے ہیں۔ ہر گھنٹے درجنوں سیاح یہاں رک کر ویڈیو بنانے کی تیاری کرتے ہیں، جیسے وہ کسی فلم کے اداکار ہوں۔ وہ اپنے بال سنوارتے ہیں، میک اپ ٹھیک کرتے ہیں اور آخر میں اوپر پہنچ کر حیرانی کا مصنوعی تاثر دیتے ہیں جب ان کے پیچھے ساگرادا فامیلیا کی شاندار عمارت نظر آتی ہے۔
اصل مسئلہ سادہ ہے: اس ویڈیو کا “کلائمیکس” تب آتا ہے جب ایسکلیٹر کے آخری حصے پر پہنچ کر لوگ پیچھے مڑتے ہیں۔ یہی لمحہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ ذرا سی لغزش مزاحیہ کے بجائے حادثے میں بدل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فون کو سیڑھی پر رکھ کر زاویہ لینے کی کوشش مزید خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کو بہت پسند کیا جاتا ہے، جہاں صارفین تعریفیں اور دل والے ایموجیز بھیجتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ تنقید بھی کرتے ہیں۔ مقامی رہائشی اس رجحان سے تنگ آ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اضافی سیکیورٹی تعینات کرنی پڑی، جس کا خرچ ٹیکس دہندگان اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کو “تفریحی پارک” نہیں بنایا جانا چاہیے۔
یہ ویڈیوز جتنی خودبخود لگتی ہیں، حقیقت میں اتنی نہیں ہوتیں۔ کئی لوگ ایک ہی سین کو بار بار شوٹ کرتے ہیں تاکہ بہترین شاٹ حاصل کیا جا سکے۔ بعض اوقات سات مرتبہ تک ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اب وہاں کوئی سیکیورٹی گارڈ بھی اس ٹرینڈ کو روک نہیں پا رہا، حالانکہ انتباہی بورڈز اب بھی موجود ہیں۔ اگر ٹرانسپورٹ حکام واقعی اسے روکنا چاہتے، تو وہ اوپر کے منظر کو کسی ڈھانچے سے ڈھانپ کر اس ویڈیو کے “دلکش زاویے” کو ختم کر سکتے تھے۔
ساگرادا فامیلیا اسٹیشن کے چار داخلی راستے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول وہ راستہ ہے جو پلازا گاودی کی طرف جاتا ہے اور جس میں ایسکلیٹر موجود ہے۔ دیگر راستوں پر بھی سیلفی لینا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب سیڑھیاں بہت مصروف ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف سیاحوں تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے اس کلچر کا حصہ ہے جس نے سفر کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
