Screenshot
جنگلاتی آگ میں استعمال ہونے والا سرخ محلول، جسے عام طور پر “ریٹارڈنٹ” یا “ریڈ واٹر” کہا جاتا ہے، آج کل دنیا بھر میں تیزی سے استعمال ہو رہا ہے اور آگ بجھانے کی ایک اہم جدید ٹیکنالوجی بن چکا ہے۔
یہ ایک خاص قسم کا کیمیائی محلول ہوتا ہے جسے عموماً ہوائی جہازوں کے ذریعے جلتے ہوئے جنگلات پر گرایا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی کام آگ کے پھیلاؤ کو روکنا ہوتا ہے۔ جب یہ محلول زمین یا درختوں پر گرتا ہے تو وہ سطح کو چپچپا بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے آگ کے تین بنیادی عناصر (حرارت، آکسیجن اور ایندھن) کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور آگ آگے نہیں بڑھ پاتی۔
یہ محلول زیادہ تر “ان ڈائریکٹ اٹیک” میں استعمال ہوتا ہے، یعنی اسے آگ کے شعلوں پر براہِ راست نہیں بلکہ آگ کے آگے والے حصے میں گرایا جاتا ہے تاکہ ایک حفاظتی دیوار (فائر بریکر) بنائی جا سکے اور آگ کو روکا جا سکے۔
اس سرخ رنگ کی وجہ ایک خاص آئرن آکسائیڈ (لوہے کے ذرات) پر مشتمل رنگ ہوتا ہے، جو اس لیے شامل کیا جاتا ہے تاکہ پائلٹس اور فائر فائٹرز اوپر سے دیکھ کر پہچان سکیں کہ کون سا علاقہ پہلے ہی کور ہو چکا ہے۔
اس محلول میں پانی کے ساتھ ساتھ فاسفیٹ اور امونیم پولی فاسفیٹ جیسے کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں، جو عام طور پر کھاد میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ محلول کئی مہینوں تک درختوں اور پودوں پر چپکا رہ سکتا ہے اور بارش کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عام حالات میں محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے جھیلوں، ندیوں یا آبی ذخائر پر استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ پانی کو آلودہ کر سکتا ہے، الجی پیدا کر سکتا ہے اور مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اس وقت امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ یورپ میں بھی اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فرانس نے حال ہی میں ایک بڑا طیارہ (Airbus A400M) استعمال کیا ہے جو ایک بار میں 20 ہزار لیٹر تک یہ محلول گرا سکتا ہے۔
اس کے باوجود، اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی لاگت ہے۔ مثال کے طور پر، صرف 1000 لیٹر محلول گرانے کی قیمت 600 سے 1000 یورو تک ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں فائر فائٹنگ فوم (جھاگ) سستی ہوتی ہے، لیکن دونوں کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بہترین نتائج دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی ایک طریقہ مکمل حل نہیں ہے۔ جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے مختلف تکنیکوں کا ملا کر استعمال کرنا ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔ مزید یہ کہ اس محلول کے استعمال کے لیے مناسب منصوبہ بندی، تربیت اور انفراسٹرکچر ضروری ہے کیونکہ اس کی سپلائی اور استعمال عام پانی کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ “ریڈ واٹر” یا ریٹارڈنٹ ایک جدید اور مؤثر ہتھیار ہے جو جنگلاتی آگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن اس کا استعمال مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اسے دیگر طریقوں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
