Screenshot
“یہاں کوئی مستقبل نہیں” یہی الفاظ نوجوان بار بار دہراتے ہیں، جبکہ مراکشی سکیورٹی فورسز انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہیں۔
تازہ صورتحال کے مطابق، جمعرات کے روز ہزاروں مراکشی نوجوان کاسٹیلیخوس (مراکش) اور سیوتا (اسپین) کی سرحد کی طرف بڑھے تاکہ باڑ عبور کرکے اسپین داخل ہو سکیں۔ یہ حالیہ برسوں میں سب سے بڑا مہاجرتی بحران ہے۔
25 سالہ فاطمہ اب تک بیس بار فنی دق (کاسٹیلیخوس) سے تیراکی کے ذریعے سیوتا پہنچنے کی کوشش کر چکی ہے۔ وہ کہتی ہے “مجھے خطرے کی پرواہ نہیں، میں دوبارہ کوشش کروں گی۔”

اسی طرح سیکڑوں نوجوان سمندر میں اترتے ہیں، بعض اوقات دن کے وقت ساحل پر عام لوگوں میں گھل مل کر، اور اکثر رات یا صبح سویرے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مراکشی سکیورٹی اہلکار انہیں روکنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔
کچھ نوجوان نیوپرین سوٹ، فِنز یا ٹائر ٹیوبز استعمال کرتے ہیں، جبکہ کئی صرف تیراکی کے لباس میں ہی سمندر میں کود جاتے ہیں، حتیٰ کہ بعض کو تیراکی بھی نہیں آتی۔
یہ نوجوان ملک کے مختلف شہروں جیسے کاسابلانکا، فاس اور مراکش سے یہاں پہنچتے ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر کامیاب ہونے والوں کی ویڈیوز اور “یورپی خواب” اپنی طرف کھینچتا ہے۔ مراکش میں تقریباً 40 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔
فاطمہ کہتی ہے“میری سہیلیاں اسپین میں ہیں، وہ کامیاب ہو گئیں، میں بھی جانا چاہتی ہوں۔ یہاں کوئی مستقبل نہیں۔”
ایک اور نوجوان نبیل (20 سال) نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہونے کے بعد سمندر کے راستے جانے کی کوشش کی۔ اس نے پلاسٹک کی بوتل میں ہوا بھر کر سہارا لینے کی کوشش کی، مگر سانس رکنے جیسی کیفیت کے باعث واپس آنا پڑا۔
ادھر عبدال اپنے 16 سالہ بیٹے کو سمندر میں جاتے دیکھ کر کہتا ہے “یہ بہت مشکل اور تکلیف دہ ہے، لیکن ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔”
ہنّا، جو اپنے بیٹے کے ساتھ کاسابلانکا سے آئی ہے، کہتی ہے “مجھے دل کی بیماری ہے، میرا بیٹا میری مدد کرے گا، اسی لیے اسے جانا پڑ رہا ہے۔”
کئی والدین اپنے کم عمر بچوں کو بھی اس خطرناک سفر پر بھیج رہے ہیں۔ ایک ماں عائشہ اپنے بیٹے اور بھانجوں کو سمندر میں کودتے دیکھ کر چیخ اٹھتی ہے “میں نہیں جانتی تھی کہ وہ ایسا کریں گے… لیکن یہاں کوئی مستقبل نہیں۔”
نوجوانوں کا کہنا ہے “نہ روزگار ہے، نہ صحت، نہ تعلیم… ہم بھی جینا چاہتے ہیں۔”
32 سالہ یاسین، جو رباط کے قریب کام کرتا ہے، کہتا ہے “میری تنخواہ تین دن بھی نہیں چلتی۔ اگر بیمار ہو جائیں تو علاج کیسے کروائیں؟”
سوشل میڈیا اس بحران میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سیوتا پہنچنے والوں کی ویڈیوز تیزی سے پھیل رہی ہیں، جس سے دوسرے نوجوان بھی یہی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔
کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسپین میں حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد، سمندر کے ذریعے پہنچنے والوں کو واپس نہیں بھیجا جائے گا، اس لیے وہاں رہنا آسان ہوگا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، یہ صورتحال غیر منصفانہ پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں کا نتیجہ ہے۔
نوجوانوں کی چیخ و پکار کے برعکس، مراکش کی حکومت اس بحران پر خاموش ہے۔ نہ وزارت داخلہ اور نہ ہی دیگر اداروں نے کوئی واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
یہ بحران 2001 کے بعد سب سے بڑا سمجھا جا رہا ہے، جب 10 ہزار سے زائد افراد سیوتا میں داخل ہوئے تھے۔
ادھر ساحل پر مریم جیسے لوگ ان نوجوانوں کے چھوڑے ہوئے کپڑے اور سامان جمع کر کے بیچتے ہیں۔ وہ کہتی ہے “میں اپنی گزر بسر کر رہی ہوں… زندگی چلتی رہتی ہے۔”
