اسپین ہمارے ملک کے خلاف “سفارتی جنگ” چلا رہا ہے۔ نیتن یاہو
Screenshot
اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز اسپین پر الزام لگایا کہ وہ ان کے ملک کے خلاف “سفارتی جنگ” چلا رہا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم سول و فوجی رابطہ مرکز (CMCC) سے ہسپانوی نمائندوں کو نکالنے کا حکم دے دیا۔
ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا“جو کوئی بھی اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو کر دہشت گرد حکومتوں کا ساتھ دیتا ہے، وہ آئندہ اس خطے میں ہمارا شریک نہیں ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا“میں اس منافقت اور دشمنی کو برداشت نہیں کروں گا۔ کوئی بھی ملک ہمارے خلاف سفارتی جنگ کرے اور اس کی فوری قیمت نہ چکائے، ایسا نہیں ہوگا۔”
نیتن یاہو نے اسپین پر اسرائیلی فوج کو بدنام کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کے مطابق، اسپین مسلسل اسرائیل کی پالیسیوں اور مختلف جنگی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے، اور اسرائیل اب اس پر خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر انہوں نے کریات گات میں قائم رابطہ مرکز سے ہسپانوی نمائندوں کو نکالنے کا حکم دیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کیا، جس کے مطابق اسپین کو باضابطہ طور پر اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی۔ یہ مرکز نومبر کے آخر میں قائم کیا گیا تھا تاکہ امریکہ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کی بحالی اور استحکام کے لیے کام کیا جا سکے۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کا تازہ مرحلہ ہے، جو 7 اکتوبر کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر ہسپانوی حکومت نے شدید تنقید کی ہے۔
دوسری جانب، اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل البارئیس نے اسرائیل کے بیانات کو “ایک بار پھر بے بنیاد اور بہتان آمیز” قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔