Screenshot
میڈرڈ: جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ارب پتی ایلون مسک نے مراکش سے سیوتا میں داخل ہونے والے ہزاروں افراد کی آمد کو “اسپین کے علاقے پر حملہ” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن اسپین کی معیشت پر تقریباً ناقابل برداشت بوجھ ہے۔
مسک کا کہنا تھا“یہ سادہ ریاضی ہے، اگر اسپین ایسے فوائد فراہم کرتا ہے جو دنیا کی 90 فیصد آبادی کے معیارِ زندگی سے زیادہ ہیں، تو اس سے ایک ایسا محرک پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی 90 فیصد آبادی اسپین منتقل ہونا چاہے گی، جو تقریباً 7 ارب افراد بنتے ہیں۔”
ٹیسلا، اسپیس ایکس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سی ای او مسک نے یہ بیانات اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں دیے، جہاں انہوں نے حالیہ دنوں میں سیوتا میں داخل ہونے والے افراد کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چونکہ زیادہ تر آنے والے افراد “فوجی عمر کے مرد” ہیں، اس لیے اسے “حملہ” تصور کیا جانا چاہیے۔ مسک، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، نے اپنی پوسٹس کے ساتھ فلم “ورلڈ وار زیڈ” کے مناظر بھی شیئر کیے، جس میں دنیا بھر میں ایک خوفناک وبا کے پھیلاؤ کو دکھایا گیا ہے۔
