بارسلونا/قونصل جنرل مراد علی وزیر نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایک حیران کن بات کی نشاندہی کی ہے ان کے مطابق جب میں سیوتا میں مہاجرین کی آمد سے متعلق خبریں دیکھ رہا تھا، ایک ایسے شہر کے بارے میں جس کے بارے میں میں پہلے زیادہ نہیں جانتا تھا، تو مجھے اس چھوٹے سے شہر کے بارے میں ایک دلچسپ بات معلوم ہوئی جو میرے لیے نئی تھی۔
میرا خیال ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں ہوں گے کہ شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی شہر سیوٹا کی آبادی کا تقریباً 1 فیصد حصہ سندھی زبان بولتا ہے۔ تاریخی طور پر، 19ویں صدی میں سندھی ہندو تاجر تجارت کی غرض سے وہاں آ کر آباد ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک متحرک کمیونٹی قائم کی جو گھروں میں سندھی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ہسپانوی زبان استعمال کرتی ہے۔
یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ ثقافت کس طرح اتنے دلچسپ راستوں سے سفر کرتی ہے۔
وکی پیڈیا یونیورسیداد دے زاراگوزا میں شائع ہونے والے تحقیقی ڈیٹا کے متعلق لکھا جو لکھا گیا ہے اس کا اردو ترجمہ اس طرح سے ہے ۔ہسپانوی اس علاقے کی بنیادی اور سرکاری زبان ہے۔ مراکشی عربی (سیوتا کی عربی بولی) بھی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ 2025 میں یونیورسیداد دے زاراگوزا میں شائع ہونے والے تحقیقی ڈیٹا کے مطابق، ہسپانوی بولنے والوں کی تعداد تقریباً 60 فیصد ہے، عربی بولنے والوں کی 40 سے 42 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ تقریباً 1 فیصد لوگ سندھی زبان بولتے ہیں۔
