Screenshot
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی جانب سے اسپین کے ساتھ شینگن ایریا کو بند کرنے کی تجویز نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں اسپین میں اٹلی کے سفیر کو طلب کیا گیا۔
اس تجویز کی فن لینڈ نے حمایت کی ہے، جبکہ دیگر یورپی ممالک نے مختلف آپشنز پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کے داخلہ و مہاجرت کے کمشنر میگنس برونر نے کہا کہ سیوتا سے دیگر یورپی ممالک کی طرف مہاجرین کی نقل و حرکت نہیں ہو رہی، اور یورپی یونین اسپین کی مدد جاری رکھے گی تاکہ وہ مراکش کے ساتھ مل کر اس بحران کو سنبھال سکے۔
شینگن ایریا کیا ہے؟
شینگن ایریا دنیا کا سب سے بڑا آزادانہ نقل و حرکت کا علاقہ ہے۔ اس کا آغاز 1985 میں فرانس، جرمنی، بیلجیم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ کے درمیان ایک معاہدے سے ہوا تھا۔ اس نظام کے تحت رکن ممالک اپنی اندرونی سرحدوں پر چیکنگ ختم کر دیتے ہیں، جبکہ بیرونی سرحدوں پر مشترکہ قوانین کے مطابق کنٹرول کیا جاتا ہے۔
یہ علاقہ 29 ممالک پر مشتمل ہے، جن میں یورپی یونین کے 27 میں سے 25 ممالک اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ممالک (آئس لینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور لیشٹینسٹائن) شامل ہیں۔ 2025 سے بلغاریہ اور رومانیہ بھی مکمل طور پر اس کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ آئرلینڈ اس میں شامل نہیں ہے۔
شینگن ایریا میں 45 کروڑ سے زائد افراد بغیر سرحدی چیکنگ کے سفر کر سکتے ہیں۔ روزانہ تقریباً 35 لاکھ لوگ کام، تعلیم یا خاندان سے ملنے کے لیے سرحدیں عبور کرتے ہیں، جس سے سیاحت اور معیشت کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
جی ہاں، غیر یورپی شہری بھی اگر یورپی یونین میں رہتے ہیں یا سیاحت، تعلیم یا کاروبار کے لیے آتے ہیں تو وہ شینگن ممالک کے درمیان بغیر بارڈر چیک کے سفر کر سکتے ہیں۔
اندرونی سرحدی چیکنگ ختم ہونے کے باوجود ممالک اپنی پولیس اور کسٹمز کے درمیان تعاون بڑھاتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مجرموں کی نگرانی کرتے ہیں۔
خاص حالات میں، جیسے سیکیورٹی خطرہ یا عوامی نظم و ضبط کو نقصان، عارضی طور پر سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، یورپی قوانین کے مطابق کوئی بھی ملک اکیلے کسی دوسرے ملک کو شینگن سے خارج نہیں کر سکتا۔
