Screenshot
روم: اٹلی کی حکومت نے سیوتا میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد اسپین کے ساتھ یورپی یونین کے شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمد و رفت کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے، جس نے اس صورتحال کو اسپین کی امیگریشن پالیسیوں، خصوصاً مہاجرین کی ریگولرائزیشن سے جوڑا ہے۔
اطالوی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ پابندی زمینی سرحدوں پر نہیں بلکہ فضائی اور بحری سفر پر اثر انداز ہوگی، کیونکہ اٹلی اور اسپین کے درمیان براہِ راست زمینی سرحد موجود نہیں ہے۔ اس فیصلے کے تحت اٹلی اپنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر اسپین سے آنے والے مسافروں کی دوبارہ چیکنگ شروع کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق اٹلی مکمل طور پر سرحدیں بند نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں ممالک شینگن زون کا حصہ ہیں، تاہم وہ عارضی طور پر سرحدی کنٹرول بحال کر کے مسافروں سے دستاویزات طلب کر سکتا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اقدام کب سے نافذ ہوگا اور اس کا مسافروں پر کیا عملی اثر پڑے گا۔
ادھر اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پیانتیدوسی نے فرانس کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت فرانس اور اٹلی کے درمیان زمینی سرحد پر سکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔
