Screenshot
کینری جزائر: انسٹیٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس آف کینریز (IAC) کی سربراہی میں ایک سائنسی منصوبے کے تحت سپر کمپیوٹر کی مدد سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ 12 اگست کو ہونے والے مکمل سورج گرہن کے دوران سورج کی بیرونی فضا، جسے شمسی کورونا کہا جاتا ہے، کیسی نظر آئے گی۔
یہ گرہن اسپین کے مغرب سے مشرق تک، لا کورونا سے لے کر پالما دے مالورکا تک دیکھا جا سکے گا، جبکہ پالینسیا کو اس قدرتی منظر کے مشاہدے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلا موقع ہوگا جب اسپین کے مرکزی علاقے میں مکمل سورج گرہن نظر آئے گا۔
سائنسدانوں نے لا پالما کے سپر کمپیوٹر اور امریکی تحقیقی ادارے پریڈکٹیو سائنس انکارپوریٹڈ (PSI) کے تعاون سے شمسی کورونا کی انتہائی تفصیلی سمیولیشن تیار کی ہے۔ IAC کے ڈائریکٹر ویلنٹین مارٹینیز پیلٹ کے مطابق یہ وہ بیرونی فضا ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے لیکن صرف مکمل گرہن کے دوران ہی نظر آتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے تو آسمان کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے، لیکن مکمل اندھیرا نہیں ہوتا۔ اس وقت کورونا واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
یہ سمیولیشن پیچیدہ ریاضیاتی مساوات اور فزکس کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کے لیے طاقتور سپر کمپیوٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنسدان روزانہ کی بنیاد پر اس ماڈل کو بہتر بنا رہے ہیں اور یورپی خلائی ایجنسی کے سولر آربیٹر اور ناسا کے سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو شامل کر رہے ہیں۔
گرہن سے ایک رات پہلے اس پیشگوئی کا حتمی ورژن تیار کیا جائے گا، جس کا موازنہ اصل مشاہدے سے کیا جائے گا۔
سائنسدانوں کے مطابق شمسی کورونا کو سمجھنا نہایت اہم ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خلائی موسمیاتی عمل شروع ہوتے ہیں جو زمین پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے شمسی طوفان جو سیٹلائٹس، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر ٹیکنالوجی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی سمجھنے میں مدد ملے گی کہ سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 6 ہزار ڈگری ہونے کے باوجود کورونا کا درجہ حرارت لاکھوں ڈگری تک کیوں پہنچ جاتا ہے، جو اب تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
