مہاجرین کی ریگولرائزیشن کا عمل جمعرات سے آن لائن اور 20 اپریل سے بالمشافہ شروع ہوگا
Screenshot
میڈرڈ/وزیرمہاجرت اسپین ایلما سائز نے تصدیق کی ہے کہ بے وطن افراد، جیسے صحراوی، اس عمل میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ غیر قانونی حیثیت میں نہیں آتے۔
اسپین میں غیر قانونی حیثیت رکھنے والے مہاجرین کو قانونی درجہ دینے (ریگولرائزیشن) کے لیے درخواستوں کا عمل اس جمعرات 16 اپریل سے آن لائن شروع ہوگا، جبکہ 20 اپریل سے یہ عمل بالمشافہ بھی شروع کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان وزیر برائے شمولیت، سوشل سیکیورٹی اور مہاجرت ایلما سائز نے کیا ہے۔ دفاتر میں حاضری کے لیے اپائنٹمنٹ بھی اسی جمعرات سے حاصل کی جا سکے گی۔
وزرائے کونسل آج اس غیر معمولی ریگولرائزیشن کی منظوری دے گی، جسے بدھ 15 اپریل کو Boletín Oficial del Estado (BOE) میں شائع کیا جائے گا۔ اس عمل کی مدت تقریباً ڈھائی ماہ ہوگی جو 30 جون تک جاری رہے گی۔
ایلما سائز نے کہا کہ اس عمل سے فائدہ اٹھانے والوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمام درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جائے گی، چاہے درخواستوں کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ تمام درخواستوں کا جائزہ وزارت کے ماتحت “یونٹ آف امیگریشن پروسیسنگ” کرے گا اور اس مقصد کے لیے اضافی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ متوقع زیادہ تعداد میں درخواستوں کو مؤثر طریقے سے نمٹایا جا سکے۔
ملک بھر میں Correos (ڈاکخانے) اور سوشل سیکیورٹی دفاتر کے ذریعے بھی درخواستیں دی جا سکیں گی، اور عملے میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ تمام درخواستوں کو وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ وزیر نے اس عمل کو مؤثر قرار دیا اور اس میں شامل تمام اداروں اور عملے کی کاوشوں کو سراہا۔
مزید یہ کہ وزارت کی ویب سائٹ پر سوال و جواب پر مبنی رہنما جاری کیا جائے گا، دفاتر کے اوقات کار بتائے جائیں گے، اور 200 سے زائد متعلقہ اداروں کے ذریعے بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ وزیر نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صرف مستند ذرائع سے ہی معلومات حاصل کی جائیں۔
بے وطن افراد (Apatridas):
ایلما سائز نے واضح کیا کہ بے وطن افراد، جیسے صحراوی، اس عمل میں شامل نہیں کیونکہ وہ غیر قانونی حیثیت میں شمار نہیں ہوتے، اس لیے ان کے لیے الگ طریقہ کار موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل صرف ان افراد کے لیے ہے جو یکم جنوری 2026 سے پہلے اسپین میں موجود تھے اور کم از کم پانچ ماہ سے مسلسل یہاں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق اسپین ان چند ممالک میں شامل ہے جو بے وطن افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً پاپولر پارٹی (PP) اور جنتس کی مخالفت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاپولر پارٹی اس معاملے میں اپنی سابقہ پوزیشن سے ہٹ گیا ہے اور اب اس اقدام پر سوال اٹھا رہا ہے۔