ہسپانوی وزیراعظم پیدروسانچز کا اپنے شہریوں کے نام پیغام،غیر معمولی ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کے عمل کا آغاز ہوگا
Screenshot
آج ایک بار پھر مجھے ہسپانوی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے، کیونکہ آج ہم نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جب معاشرہ متحد ہو کر آگے بڑھتا ہے تو اسپین ترقی کرتا ہے۔
آج وزراء کونسل ایک شاہی فرمان (Real Decreto) کی منظوری دے گی، جس کے ذریعے ہمارے ملک میں غیر قانونی حیثیت سے مقیم افراد کی غیر معمولی ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کے عمل کا آغاز ہوگا۔
ہم یہاں تک پہنچے ہیں تو یہ سینکڑوں تنظیموں اور چھ لاکھ سے زائد افراد کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے برسوں تک اس اقدام کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لیے کام کیا۔ یہ ایک عوامی قانون سازی اقدام تھا، جس نے موجودہ تقسیم کے دور میں بھی ایک غیر معمولی اتحاد پیدا کیا۔ اس کو چرچ، مزدور تنظیموں، کاروباری حلقوں اور ایک ایسے شہری معاشرے کی حمایت حاصل رہی، جو اپنے پڑوسیوں کی زندگی بہتر بنانے اور اسپین کو ایک بہتر ملک بنانے کا خواہاں ہے۔
میں خاص طور پر اسی نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں۔
یہ ریگولرائزیشن دراصل ایک عملِ معمول (نارملائزیشن) ہے۔ اس کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ ایسے افراد کی حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جو ہماری خوراک کو ہماری میز تک پہنچاتے ہیں، جو اختراع کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، اور جن کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ پڑھتے، کھیلتے اور مستقبل بانٹتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک خوشحال، کھلے اور متنوع اسپین کی تعمیر کر رہے ہیں۔
یہ ہماری اپنی تاریخ کے ساتھ انصاف بھی ہے۔ ہمارے دادا دادی، جو بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ اور امریکہ ہجرت کر گئے تھے۔ ہمارے وہ بھائی بہن جو 2008 کے معاشی بحران کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے ان معاشروں کی ترقی میں حصہ ڈالا جنہوں نے انہیں پناہ دی، اور اپنی ترسیلات زر اور تجربات کے ذریعے اسپین کی ترقی میں بھی کردار ادا کیا۔
لیکن ہمیں خود کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ ریگولرائزیشن صرف انصاف کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ضرورت بھی ہے۔
اسپین، دیگر یورپی ممالک کی طرح، عمر رسیدہ ہو رہا ہے۔ اگر نئی افرادی قوت شامل نہ ہوئی تو ہماری ترقی سست ہو جائے گی، ہماری جدت کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی، اور ہمارے عوامی خدمات جیسے صحت، پنشن اور تعلیم متاثر ہوں گی۔ درحقیقت، تارکینِ وطن کی محنت اور توانائی کی بدولت ہی آج اسپین کی معیشت یورپ میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
نہ ٹیکنالوجی اور نہ ہی خودکار نظام اس مسئلے کو فوری طور پر حل کر سکتے ہیں۔ راستہ واضح ہے: بہتر انضمام، بہتر نظم و نسق، اور ان لوگوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا جو پہلے ہی ہمارے درمیان رہتے ہیں۔
اس ریگولرائزیشن کا اصل مقصد یہی ہے: حقوق دینا، مگر ذمہ داریاں بھی مقرر کرنا۔ تاکہ جو لوگ پہلے ہی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، وہ برابر کی بنیاد پر زندگی گزار سکیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ہجرت ایک چیلنج بھی ہے، اور اس سے انکار کرنا غیر ذمہ داری ہوگی۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان چیلنجز کا بہترین حل ریگولرائزیشن ہے۔ کیونکہ حقیقی انضمام صرف اسی وقت ممکن ہے جب لوگوں کو قانونی حیثیت، باعزت روزگار، اور معاشرتی شرکت کا موقع ملے۔
آج ہمارے سامنے دو راستے ہیں: ایک وہ جو خوف پھیلاتا ہے، لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے اور ہزاروں افراد کو محرومی میں دھکیل دیتا ہے۔ دوسرا وہ جو ہجرت کو ایک حقیقت مان کر اسے ذمہ داری سے منظم کرتا ہے، انصاف کے ساتھ ضم کرتا ہے اور مشترکہ خوشحالی میں بدل دیتا ہے۔
اسپین نے ہمیشہ دوسرا راستہ چنا ہے، اور آج بھی ہم وہی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
آپ سب کا شکریہ اور اس کامیابی پر مبارکباد۔