ایران اسرائیل میں جاسوسی نیٹ ورک کیسے پھیلا رہا ہے؟ درجنوں شہری ملوث ہونے کا انکشاف
Screenshot
اسرائیل میں ایران کے مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق درجنوں اسرائیلی شہری مختلف خفیہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو حساس معلومات حاصل کرنے، اہم شخصیات کی نگرانی کرنے اور معاشرے میں انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق 15 ستمبر 2023 کو تل ابیب کے ایک پارک میں ہونے والے بم دھماکے نے اس نیٹ ورک کی ایک جھلک پیش کی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس حملے کا ہدف سابق وزیر دفاع Moshe Ya’alon تھے، جبکہ منصوبہ حزب اللہ کے ذریعے تیار کیا گیا اور اس کے پیچھے ایران کا کردار بتایا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی Islamic Revolutionary Guard Corps اور اس کی ذیلی قدس فورس نہ صرف بیرون ملک بلکہ اسرائیل کے اندر بھی اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا اور بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی اداروں نے تقریباً 40 کیسز بے نقاب کیے، جن میں 50 سے زائد افراد شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف ایک سال میں ایران کی جانب سے جاسوسی کی 120 سے زائد کوششیں ناکام بنائی گئیں، جبکہ 2024 میں ایسے کیسز میں 400 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
بھرتی کے طریقہ کار میں زیادہ تر ایسے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو مالی یا ذاتی مسائل کا شکار ہوں۔ انہیں معمولی رقوم کے عوض حساس معلومات اکٹھی کرنے، فوجی تنصیبات کی تصاویر لینے یا سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیزی پھیلانے کا کہا جاتا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، جن میں ایک 73 سالہ شخص اور ایک 13 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ بعض افراد کو سابق وزیر اعظم Naftali Bennett جیسے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی تیار کیا جا رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر معمولی نوعیت کی معلومات بھی جب مختلف ذرائع سے جمع ہوتی ہیں تو بڑے حملوں کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان اسرائیل کے لیے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ نفسیاتی چیلنج بھی بن چکا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن اندرونی سطح پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔