آدموز ٹرین حادثہ: متاثرین کا اسپین کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج، 47 خالی کرسیوں کے ساتھ انصاف کا مطالبہ

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ میں اسپین کی پارلیمنٹ (کانگریس) کے باہر آدموز ٹرین حادثے کے متاثرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے “انصاف، سچائی اور جواب دہی” کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں 47 خالی کرسیاں رکھ کر جاں بحق ہونے والے افراد کی علامتی یاد منائی گئی، جن میں 46 مسافر اور ایک ٹرین کا زیرِ تربیت ڈرائیور شامل تھا جو بعد میں ایک اور حادثے میں جان سے گیا۔

متاثرین کی تنظیم نے پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو کر ایک بار پھر حکومت اور ریلوے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے خواب ادھورے رہ گئے اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے۔

تنظیم کے صدر ماریو سمپر نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف متاثرہ خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے، کیونکہ کوئی بھی شہری ریلوے سفر کے دوران خطرے سے محفوظ نہیں۔ ان کے مطابق آج بھی ہزاروں مسافر انہی حالات میں سفر کر رہے ہیں جن میں یہ المناک حادثہ پیش آیا تھا، اس لیے ایسے واقعات دوبارہ بھی پیش آ سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت اور سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے نظام میں بنیادی اصلاحات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نگرانی اور حفاظتی نظام درست ہوتا تو حادثہ ٹالا جا سکتا تھا، کیونکہ مبینہ طور پر حادثے سے کئی گھنٹے پہلے پٹری میں خرابی کے آثار موجود تھے۔

احتجاج کے دوران متاثرین نے ایک یادداشت پارلیمنٹ میں جمع کرائی اور درخواست کی کہ اسے ایوان میں پڑھا جائے تاکہ ان کے مطالبات کو سرکاری سطح پر سنجیدگی سے لیا جائے۔ اس موقع پر متاثرین نے جذباتی انداز میں اپنے پیاروں کی کہانیاں بیان کیں اور انصاف کے حصول میں تاخیر پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔

مظاہرے میں کچھ افراد نے وزیرِ ٹرانسپورٹ اور وزیرِاعظم کے خلاف سخت نعرے بھی لگائے، جن میں استعفوں اور قانونی کارروائی کے مطالبات شامل تھے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کو جواب دینا ہوگا اور اس بار صرف نچلے درجے کے افراد کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ آدموز حادثے کے متاثرین کا دوسرا بڑا احتجاج تھا۔ اس سے قبل بھی وہ ایک اور شہر میں بڑا مظاہرہ کر چکے ہیں جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ تنظیم نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مزید احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔

آخر میں متاثرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ حادثہ ایک مکمل طور پر قابلِ روک تھام سانحہ تھا، جو انتظامی غفلت اور سلسلہ وار کوتاہیوں کی وجہ سے پیش آیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اصل ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے