مہاجرین کی قانونی حیثیت (ریگولرائزیشن) کے عمل میں کچھ بلدیاتی ادارے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ایلما سائز
ہسپانوی حکومت نے بعض بلدیاتی اداروں (میونسپلٹیوں) کی جانب سے مہاجرین کی قانونی حیثیت (ریگولرائزیشن) کے عمل میں “رکاوٹیں” ڈالنے کی شکایت کی ہے۔
مہاجرت کے اس اہم معاملے پر بات کرتے ہوئے، وزیر برائے شمولیت، سوشل سیکیورٹی اور مہاجرت ایلما سائز نے پیر کے روز تمام سرکاری اداروں سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بلدیاتی ادارے اس عمل میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں جب ان سے اس دن کے حوالے سے سوال کیا گیا جس دن سے مہاجرین کو پہلی بار ذاتی طور پر مراکز میں جا کر اپنی درخواستیں جمع کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیر نے کہایہ قابل قبول نہیں کہ کچھ بلدیاتی ادارے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ یہ رکاوٹیں حکومتِ اسپین کے لیے نہیں بلکہ ان شہریوں کے لیے ہیں جو اس عمل سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کئی ادارے وزارت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں، اس لیے چند رکاوٹوں کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔
حکومت کے مطابق، یہ طریقہ کار اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ غیر ضروری بیوروکریسی لوگوں کی زندگی کے منصوبوں میں رکاوٹ نہ بنے۔ اسی مقصد کے تحت Federación Española de Municipios y Provincias سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
20 اپریل سے ملک بھر میں مختلف دفاتر میں مہاجرین کی درخواستوں پر کام شروع ہو گیا ہے، جن میں:
* Correos کے 370 سے زائد دفاتر
* سوشل سیکیورٹی کے 60 سے زیادہ دفاتر
* اور امیگریشن (Extranjería) کے دفاتر شامل ہیں، جو Madrid، Alicante، Valencia، Almería اور Murcia میں واقع ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ بغیر پیشگی وقت (اپائنٹمنٹ) کے کسی کو بھی سروس نہیں دی جائے گی۔ درخواست دینے کے لیے:
* سوشل سیکیورٹی دفاتر: شام 4 سے 7 بجے
* کورریوس دفاتر: صبح 8:30 سے شام 5:30 بجے
* امیگریشن دفاتر: شام 4 سے 7 بجے
اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے وزارت کی ویب سائٹ (Cl@ve سسٹم کے ذریعے)، آن لائن فارم، یا فون نمبر 060 استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اہلیت کے لیے دو بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں:
1. وہ افراد جنہوں نے یکم جنوری 2026 سے پہلے اسپین میں پناہ (اسائلم) کی درخواست دی ہو
2. یا وہ افراد جو اسی تاریخ سے پہلے غیر قانونی حیثیت میں اسپین آ چکے ہوں
درخواست دینے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔
وزیر ایلما سائز نے اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عمل کے بائیکاٹ میں تنہا ہے اور ہزاروں لوگوں کے مفادات کے خلاف کھڑی ہے، جبکہ چرچ اور 900 سے زائد تنظیمیں اس اقدام کی حمایت کر رہی ہیں۔
آخر میں انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت کے پاس اس عمل کو مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے مناسب وسائل موجود ہیں اور تمام امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔