ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز کی دورہ چین کے موقع پر چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات

Screenshot

Screenshot

ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز نے چین کے دورے کے دوران آٹوموبائل، قابلِ تجدید توانائی، بیٹریز، کان کنی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات کی، جس کا مقصد اسپین میں سرمایہ کاری لانا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ چین سے آنے والی سرمایہ کاری نہ صرف بڑھے بلکہ وہ اسپین اور یورپ کی صنعتی ویلیو چین کا حصہ بھی بنے۔ اس دورے کا ایک اہم ہدف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے، جو اس وقت چین کے حق میں زیادہ ہے۔

حکومت کے مطابق اس وقت دو طرفہ تجارتی حجم تقریباً 60 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے، جس میں زیادہ اضافہ چین سے درآمدات، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی آمد کی وجہ سے ہوا ہے۔ اسی لیے اسپین چاہتا ہے کہ اس کی کمپنیاں بھی چینی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل کریں، جہاں حکومتی کنٹرول کے باعث سرمایہ کاری کے فیصلوں میں بیجنگ کی منظوری اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسپین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے گی جو ملک کے اندر ٹیکنالوجی، جدت اور صنعتی ترقی کو فروغ دے اور مقامی معیشت میں حقیقی قدر کا اضافہ کرے۔

اپنے دورے کے دوران پیدروسانچز نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی Xiaomi کے بانی اور سی ای او Lei Jun سے بھی ملاقات کی، جس میں اسپین کی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر ہسپانوی معیشت کی تیز رفتار ترقی کو سراہا گیا۔

اجلاس میں مختلف شعبوں کے نمایاں چینی کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں آٹوموبائل، توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ہوا بازی اور لیتھیم کان کنی سے وابستہ کمپنیاں شامل تھیں، جو اسپین میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے